.
ایرانی ملیشیا

شام اور عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں پر امریکا کے ’’ناگزیر اہدافی‘‘ فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں عراق کے ساتھ سرحد پر امریکی فضائی حملوں میں ایران نواز گروپوں کے کم از کم 5 ارکان ہلاک ہو گئے۔ یہ بات آج پیر کو شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے بتائی۔

ایک امریکی ذمے دار کے مطابق شام اور عراق میں ایرانی ملیشیاؤں پر حملوں کے لیے درست نشانے کے حامل ہتھیار استعمال کیے گئے۔

المرصد کا کہنا ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے عراق شام سرحد اور شامی اراضی کے اندر ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کے عسکری مراکز اور ان کی نقل و حرکت کو نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں ان ملیشیاؤں کے کم از کم 5 ارکان مارے گئے جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی SANA کے مطابق "اتوار اور پیر کی درمیانی شب دیر الزور صوبے کے انتہائی مشرق میں عراق کے ساتھ سرحدی علاقے کو لڑاکا طیاروں کے ذریعے فضائی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی میں ایک بچہ جاں بحق اور تین شہری زخمی ہو گئے"۔

امریکی وزارت دفاع ’’پینٹاگان‘‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ فضائی بم باری، عراق میں ان گروپوں کی جانب سے امریکی اہل کاروں اور تنصیبات پر کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ "حالیہ حملوں سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ صدر جو بائیڈن امریکیوں کی حفاظت کے لیے حرکت میں آنے کے لیے پُر عزم ہیں"۔

پینٹاگان نے العربیہ کو دیے گئے خصوصی بیان میں اس بات کی تردید کی ہے کہ اس فوجی کارروائی کے بعد رد عمل کے حوالے سے اندیشے پائے جا رہے ہیں۔

پینٹاگان کے سرکاری ترجمان جون کیربی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ امریکی حملوں میں شام میں دو اور عراق میں ایک مقام پر آپریشنل تنصیبات اور ہتھیاروں کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ تمام مقامات سرحدی علاقوں میں واقع ہیں۔ نشانہ بنائے جانے والے مقامات کو ایران نواز ملیشیاؤں کی جانب سے استعملا کیا جا رہا تھا۔ ان ملیشیاؤں میں حزب اللہ بریگیڈز اور سید الشہداء بریگیڈز شامل ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے پہلو سے دیکھا جائے تو امریکا نے یہ کارروائی اپنے دفاع کے حق کے سلسلے میں کی۔ خطرے سے نمٹنے کے لیے یہ حملہ ضروری تھا۔