.

فجیرہ کی ساحلی حدود میں چاربحری جہازوں کا رابطہ منقطع، ہائی جیک ہونے کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں شامل امارت فجیرہ کی ساحلی حدود میں اسفالٹ پرنسیس نامی جہاز کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منطقع ہوگیا ہے۔برطانوی ذرائع نے اس شُبے کا اظہار کیا ہے کہ اس جہاز کو ایرانی فوج یا اس کے کسی گماشتہ گروپ نے اغوا کرلیا ہے۔

قبل ازیں برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ ایجنسی نے فجیرہ کی حدود میں ایک جہاز کے ممکنہ طور پر ہائی جیک ہونے کی اطلاع دی تھی لیکن اس نے جہازکی کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی۔اس کے بعد چار اور جہازوں کے رابطے منقطع ہونے کی بھی اطلاع سامنے آئی ہے۔

برطانوی اخبار داٹائمز کے دفاعی امور کے ایڈیٹر نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے:’’برطانوی ذرائع کو یقین ہے کہ اسفالٹ پرنسیس کواغوا کر لیا گیا ہے۔وہ اس مفروضے پر کام کررہے ہیں کہ اس جہاز پر ایرانی فوجی یا ان کے گماشتہ اہلکار سوار ہوچکے ہیں۔‘‘

برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نےتیسرے فریق کے ذریعے کی بنیاد پرجہازوں کوخبردار کیا تھا کہ وہ امارت فجیرہ سے 60 ناٹیکل میل مشرق میں واقع علاقے میں زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کریں۔

میرین ٹریفک ڈاٹ کام کے مطابق عین اس وقت چار تیل بردارجہازوں ،کوین ایماتھا، گولڈن بریلیئنٹ ،جگ پوجا اور ابیس نے بھی یہ اعلان کیا تھاکہ وہ کمان میں نہیں رہے ہیں۔انھوں نے اپنے خودکار شناختی نظام کے ٹریکروں کے ذریعے یہ اطلاع دی تھی۔اس کا بالعموم یہ مطلب ہوتا ہے کہ جہازوں کا خود پرکنٹرول نہیں رہا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ خلیج کے ساحل کے نزدیک جہازوں سے متعلق سکیورٹی کے واقعات مشتبہ ہے۔

فلائٹ راڈار 24ڈاٹ کام کے ڈیٹا کے مطابق عُمان کی شاہی فضائیہ کا طیارہ سی 295۔ایم پی اے اس علاقے میں پرواز کررہا تھا جہاں جہاز موجود تھے۔یہ طیارہ خلیج کی بحری حدود میں فضائی گشت پر مامور ہے۔

مشرق اوسط میں موجود امریکی فوج کے پانچویں بحری بیڑے اور برطانیہ کی وزارت دفاع نے فوری طور پر ان واقعات کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔اماراتی حکومت نے بھی اس واقعے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

اس واقعہ سے صرف چار روز قبل ہی عُمان کی ساحلی حدود میں اسرائیل کے ملکیتی ایک آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔اس کے نتیجے میں جہاز کے عملہ کے دو ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔امریکا سمیت مغربی ممالک نے ایران کو اس حملے کا موردالزام ٹھہرایا ہے لیکن ایران نے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران میں تیل بردار یا مال بردار بحری جہازوں پر متعدد حملے کیے جاچکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کسی جہاز پر ڈرون حملے میں شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ایران اور اس کی اتحادی ملیشیائیں ماضی میں اسی انداز میں جہازوں پر ڈرونز سے حملے کرتی رہی ہیں۔اسرائیل، امریکا اور برطانیہ نے جہازپرحملے کے ردعمل میں ایران کے خلاف اجتماعی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں