.

سعودی اولمپک چیمپیئن طارق حامدی کا ٹوکیو سے جدہ پہنچنے پر شاندار استقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے اولمپک چیمپئن اور کراٹے کے کھلاڑی طارق حامدی کا ٹوکیو سے جدہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے پر پُرتپاک خیرمقدم کیا گیا ہے۔انھوں نے ٹوکیواولمپکس میں کراٹے کے فائنل مقابلے میں چاندی کا تمغا جیتا ہے۔

سعودی عرب کے وزیرکھیل اور سعودی اولمپک کمیٹی کے صدر شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل بھی سوموار کے روز طارق حامدی کے ہمراہ جدہ پہنچے ہیں۔

ان کا پُرتپاک خیرمقدم کرنے کے لیے ان کے مداحوں اور کراٹے کے نوجوان کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد ہوائی اڈے پر موجود تھی۔ان کے علاوہ دسیوں فوٹوگرافر اور کیمرامین بھی ان کی آمد کے تاریخی لمحات کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرنے کے لیے موجود تھے۔

ٹوکیو اولمپکس میں طارق حامدی نے گذشتہ ہفتے کے روز کراٹے کے 75 کلوگرام سے زیادہ وزن کی کیٹگری کے فائنل مقابلے میںچاندی کا تمغا جیتا تھا لیکن وہ ناک آؤٹ ہونے کی وجہ سے سونے کے تمغے سے محروم کردیے گئے تھے۔

وہ کراٹے کے فائنل میں اپنے ایرانی حریف سجاد گنج زادہ سے 4-1 سے جیت رہے تھے۔مقابلے کے دوران میں انھوں نے اپنے حریف کی گردن پرزوردار کک مار دی جس سے وہ بے ہوش ہوکر گرپڑے اور انھیں اسٹریچر پر ڈال کر رنگ سے باہر لے جانا پڑا تھا۔

مقابلے کے بعد کراٹے کے اس فائنل مقابلے کے آفیشل نے مکمل سوچ بچار کے بعد ایرانی ایتھلیٹ کو فاتح اور طلائی تمغے کا حق دار قراردیا تھا اور طارق حامدی کی کک کو خلاف قاعدہ اورانھیں اس فائنل مقابلے میں شکست خوردہ قراردیا تھا۔اس طرح وہ سونے کا تمغا حاصل کرنے سے محروم رہے تھے۔

مگر اس کے باوجود سعودی وزیرکھیل اور اولمپک کمیٹی کے صدر شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل نے فائنل مقابلے میں چاندی کا تمغا جیتنے پر طارق حامدی کو طلائی تمغے کے ساتھ 50 لاکھ سعودی ریال (13 لاکھ امریکی ڈالر) کی خطیر رقم انعام کے طور پردینے کا اعلان کیا ہے۔

شہزادہ عبدالعزیز نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’وہ (طارق حامدی) ہم سب کا ہیرو ہے۔ٹوکیو 2020ء اولمکپس میں عالمی اسٹارز کے مقابلے میں شاندار کارکردگی،تخلیقیت اور مملکت کی باوقارانداز میں نمایندگی پر انھیں طلائی تمغے (50 لاکھ ریال) سے نوازا جائے گا۔‘‘انھوں نے مزید کہاکہ’’آپ اس کے حق دار ہیں،آپ ہمارے ہیرو ہیں، مستقبل آپ کا ہے۔ان شاء اللہ۔‘‘۔

جدہ آمد پر سعودی شہریوں اور کراٹے کے نوجوان کھلاڑیوں کو طارق حامدی کو گل دستے پیش کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بدستور ان کی تحسین کی جارہی ہے اور اولمپکس میں ان کی شاندار کارکردگی کو سراہا جارہا ہے۔انھوں نے ٹوکیواولمپکس میں سعودی عرب کے لیے دوسرا میڈل جیتا تھا۔