.

افغانستان پر طالبان کے قبضے سے القاعدہ دوبارہ قدم جما لے گا: امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

این بی سی نیوز کو دیے گئے بیانات میں پینٹاگان حکام نے کہا ہے کہ افغانستان پر طالبان کا کنٹرول القاعدہ کو دوبارہ قدم جمانے اور تنظیم کو فعاول کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینتھ میک کینزی نے پہلے اشارہ کیا تھا کہ انہیں یقین نہیں تھا کہ طالبان القاعدہ کو دوبارہ آباد ہونے سے روکیں گے اگر انہوں نے افغانستان پر اپنا کنٹرول مسلط کر دیا۔

طالبان نے جمعرات کو کابل کے قریب ایک صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد پورے افغانستان میں باغیوں کے زیر قبضہ صوبائی دارالحکومتوں کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔ امریکا اور نیٹو کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد ملک سے اپنی افواج کو مکمل طور پر واپس بلانے کے لیے تیار ہیں۔

عسکریت پسندوں نے کابل سے 130 کلومیٹر جنوب مغرب میں غزنی شہر پر اپنے جھنڈے لہرا دیے۔ دو مقامی عہدیداروں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ شہر کے باہر ایک انٹیلی جنس بیس اور فوج کی تنصیبات پر لڑائی جاری ہے۔

طالبان نے انٹرنیٹ پر ویڈیوز اور تصاویر شائع کیں ہیں جن میں اپنے عسکریت پسندوں کو صوبہ غزنی کے دارالحکومت اورغزنی شہر میں دکھایا گیا۔

کابل حکومت دشمنی اور لڑائی کے خاتمے کے بدلے طالبان کوشراکت اقتدار کی پیشکش کی ہے۔

تاہم صدر اشرف غنی اس مہینے کے آخر میں امریکا اور نیٹو کے انخلا سے قبل اپنے ملک کی خصوصی افواج ، جنگجو ملیشیا اور امریکی فضائیہ پر انحصار کرتے ہوئے جوابی حملہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اگرچہ دارالحکومت کابل کو براہ راست طالبان کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں لیکن طالبان کی ڈرامائی فتووحات کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔