.
جوہری ایران

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر اتفاق نہیں مگرہمارے پاس کوئی متبادل پلان بھی نہیں: لبید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر خارجہ یائیر لبید نے جمعرات کو اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی حمایت نہیں کرتے لیکن فی الحال اس کے لیےان کے پاس کوئی متبادل منصوبہ موجود نہیں ہے۔

لبید کا یہ بیان ان کے مراکش کے دورے کے دوران سامنے آیا ، جہاں انہوں نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور مراکش اپنے سفارتی تعلقات کو فروغ دینے اور کئی مہینوں کے اندر دونوں طرف سفارت خانے کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جوہری معاہدے کے بارے میں لبید نے کہا کہ انہیں اس سے بہتر کوئی متبادل نظر نہیں آتا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں معاہدے کی حمایت نہیں کرتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غلط معاہدہ ہے۔ میں نے پہلے کہا تھا اور اب اسے دہراتا ہوں مگر ہمارے پاس اس کا کوئی متبادل منصوبہ بھی نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک عام بین الاقوامی خیال ہے کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ ویانا مذاکرات کے ذریعے طے پا جائے گا۔ معاہدے سے پہلے سخت گیر ابراہیم رئیسی نے تہران میں اقتدار سنبھال لیا۔ وہ شخص جس نے بہ ظاہر اس کے برعکس فیصلہ کیا سپریم لیڈرخامنہ ای ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل امریکا اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ایران کو اس کے جوہری پروگراموں کی ترقی سے روکنے کے طریقے تلاش کیے جا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نے ایران میں نئی بننے والی حکومت کے لیے دنیا کو یہ بتانا آسان ہو جاتا ہے کہ ہم کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ یہ ایک دہشت گرد ریاست ہے جس کی حکومت بھی دہشت گرد ہے۔ یہ حکومت بقا کے لیےخون اور قتل کو ایک ذریعے کے طورپر اپناتی ہے۔

لبید نے زور دے کر کہا کہ ایران عدم استحکام پیدا کرنے والی قوت ہے جو دہشت گردی کی حمایت کرتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایران نے کئی سال کی کشیدگی کے بعد سنہ 2015 میں امریکا ، برطانیہ ، فرانس ، روس ، چین اور جرمنی کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کیا۔