.
افغانستان وطالبان

سفارت خانہ خالی کرنے سے قبل امریکیوں نے افغانیوں کے پاسپورٹ تلف کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’سی این این‘ نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکام نے کابل میں سفارت خانہ خالی کرنے سے قبل کچھ افغان ملازمین پاسپورٹ تلف کردیے تھے۔ یہ پاسپورٹس اس وقت تلف کیے گئے وہ مکمل انخلا کی تیاری کے لیے کابل میں امریکی سفارت خانے میں حساس مواد ٹھکانے لگا رہے تھے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا تھا جب طالبان نے 20 سال کے بعد ملک کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا تھا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ پاسپورٹ کیوں ضائع کیے گئے لیکن امریکی نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ سفارت کاروں نے فیصلہ کیا کہ اگر یہ دستاویزات طالبان کے ہاتھ لگیں تو یہ بہت خطرناک ہوگا اور پاسپورٹس کے حامل افغانیوں کو انتقامی حملوں کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

سفارتی عملے کو بہ خوبی یہ اندازہ بھی تھا کہ پاسپورٹ نہ ہونے سے ان افغانیوں کے لیے بیرون ملک سفر میں بڑی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں جو طالبان کی آمد کے بعد ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔

"سی این این" نے نیو جرسی سے ڈیموکریٹک رکن کانگریس اینڈی کم کے دفتر سے جاری کردہ ایک خط کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے انخلاء میں مدد کی درخواست کرنے والے افغانیوں کے ویزا اور پاسپورٹس کے حصول کے لیے انٹرویو منسوخ کردیے تھے اور سفری دستاویزات تباہ کردی تھیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ فی الحال افغانستان میں کوئی دوسری ویزا سروس فراہم نہیں کی جا سکتی۔

محکمہ خارجہ ویزا پروسیسنگ کے منتظر تمام افراد کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ پناہ ڈھونڈیں اور مزید ہدایات کا انتظار کریں۔ انہیں ایئر پورٹ تک جانے کی ضرورت نہیں ہے اور وہ نئی ہدایات کا انتظار کریں۔

نیو جرسی کے ڈیموکریٹ رکن ٹام مالینوسکی نے کہا کہ امریکا کو ان افغانیوں کی شناخت کی تصدیق کے طریقوں کے بارے میں سوچنا پڑے گا جن کے پاسپورٹ جلا دیئے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں بغیر پاسپورٹ اور آڈٹ (ان کے ذاتی ریکارڈ) کے لوگوں کو دوسرے طریقوں سے قبول کرنا پڑے گا۔ مثلا ان کے فون نمبر کے ذریعے ان سے رابطہ کرنا ہوگا۔ فون نمبروں سے ہم ان افغانی ملازمین کے بارے میں جان کاری حاصل کرسکتے ہیں جن کے پاسپورٹس تلف کردیے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی افغان جو ہوائی اڈے پر جانے کا خطرہ مول لے گا وہ سفری دستاویزات کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا۔

اس کے برعکس امریکی محکمہ خارجہ نے پاسپورٹ کی تلفی پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کابل میں مکمل طور پر خالی کرائے گئے امریکی سفارت خانے کی حفاظت نہیں کررہا ہے۔ تاہم محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق یہ عمارت بہت زیادہ محفوظ علاقے میں واقع ہے۔