.

طالبان کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنا اس کے اقدامات پر منحصر ہے: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان (ماریا زاخارووا) نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنا ان کے عملی اقدامات اور مخصوص افعال پرمنحصر ہے۔

انہوں نے ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو مخصوص اقدامات اور پالیسی سے پیدا ہوتا ہے جو کہ نظریاتی پہلو سے حل نہیں ہوگا بلکہ عملی طور پراقدامات سے حل ہوگا ۔"

انہوں نےمزید کہا کہ روسی صدر کے مشیر زامیر کابلوف اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف دونوں نے اس حوالے سے بات کی اور اس بات پر زور دیا کہ ہر چیز کو حقیقی اقدامات کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔

پیر کے روز ماسکو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے کابل کی نئی انتظامیہ کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابل کی صورتحال "استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔"

برسوں پر محیط تعلقات

ماسکو نے افغانستان میں اپنی سفارتی نمائندگی برقرار رکھی ہے اور عملہ واپس نہیں بلایا ہے۔ دوسری طرف مغربی ممالک افغانستان کے طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد ملک چھوڑ رہے ہیں اور ملک کے مستقبل کے بارے میں خدشات پیدا کر رہے ہیں۔ اگرچہ روس طالبان کو ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے مگر ماسکو نے کئی سال سے اس تحریک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں اور متعدد مواقع پر اس کے ایلچیوں سے بات چیت کی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ طالبان نے گذشتہ اتوار کو صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار کے بعد افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔مفرور صدر اشرف غنی کا موقف ہے کہ انہوں نے ملک میں خون ریزی سے بچنے کے لیے کابل چھوڑا ہے۔