.
یمن اور حوثی

عرب اتحاد نے دو حوثی بارودی ڈرون فضاء میں مار گرائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لئے قائم عرب اتحاد نے یمنی حدود میں بارودی مواد سے لدے ہوئے دو حوثی ڈرونز کو مار گرایا۔

عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل ترکی المالکی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نواز حوثی باغی شہریوں اور عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

عرب اتحاد نے یمنی حدود میں ہی پہلے ڈرون طیارے کو گرانے کی تصدیق کے کچھ ہی بعد دوسرے بارودی ڈرون کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

سعودی عرب کے ابھا ائرپورٹ پر حملہ

بارودی ڈرونز سے سعودی سرزمین کو نشانہ بنانے کی کارروائی ناکام بنانے سے ایک دن قبل ہی حوثی باغیوں نے ابھا انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

ابھا ائیرپورٹ پر استعمال کردہ ڈرون کے پرزے

عرب اتحاد نے اس ڈرون کو فضاء میں تباہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں ائرپورٹ کسی بڑی تباہی سے بچ گیا مگر تباہ شدہ ڈرون کے پرزے ائرپورٹ کے احاطے میں گرنے سے ائرپورٹ ملازمین زخمی ہوگئے اور وہاں موجود ایک جہاز کو نقصان پہنچا۔

یہ ابھا ائرپورٹ کو 24 گھنٹوں میں نشانہ بنانے کی دوسری کارروائی تھی۔

ترکی المالکی کے بیان کے مطابق "31 اگست 2021 کو 9 بج کر چھ منٹ پر شہریوں کو نشانہ بنانے کی دوسری کارروائی کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔"

حملے کے نتیجے میں ائرپورٹ کا ایک بنگلہ دیشی ملازم تشویش ناک حالت میں ہے جبکہ دو انڈین اور ایک بنگلہ دیشی ورکرز کو درمیانے درجے کےزخم آئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بنگلہ دیشی، نیپالی، بھارتی اور سعودی ملازمین کو معمولی چوٹ آئی ہے۔

عرب اتحاد کے ترجمان نے بتایا تھا کہ ائرپورٹ پر موجود ایک A320 جہاز کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

حوثی حملے کے نتیجے میں نشانہ بننے والے کمرشل جہاز کی تصویر۔
حوثی حملے کے نتیجے میں نشانہ بننے والے کمرشل جہاز کی تصویر۔

حوثی باغی سعودی عرب اور یمن کے علاقوں پر تواتر کے ساتھ حملےکرتے رہتے ہیں۔ ایرانی حکومت یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور فوج کے خلاف حوثی باغیوں کی مدد میں پیش پیش ہے اور حوثیوں کو ہتھیار، ڈرون اور فوجی تربیت کی سہولیات فراہم کرتی ہے۔