.

ملک کی تباہی سے انجلینا جولی کے ساتھ تعاون تک شامی نوجوان کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

" آٹھ برس کی عمر تک میں شام میں قدرتی اور مسرور بچپن گزار رہا تھا ... شام خوب صورت تھا اور میں وہاں اپنے گھرانے کے ساتھ سادہ سی زندگی گزار رہا تھا" ..... یہ وہ الفاظ ہیں جن کے ذریعے 19 سالہ شامی نوجوان محمد نجم نے جنگ سے پہلے شام میں معمول کی زندگی کو بیان کیا۔

امریکی جریدے "نیوز ویک" میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق نجم نے واضح کیا کہ شام میں انسانی زندگی 2011ء میں دشوار ہو گئی۔ نجم نے بتایا کہ ملک بم باری ، گولا باری ، میزائلوں ، راکٹوں اور کیمیائی جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ دمشق کے مشرق میں واقع غوطہ میں کیمیائی حملوں میں بچوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔

تعلیم کا سلسلہ رک جانے اور اسکولوں کو جانا دشوار ہو جانے کے سبب نجم نے تقریبا دو سال تک پناہ گاہ میں پڑھائی کے اسباق لیے۔

نجم کے مطابق 2015ء میں ایک دھماکے میں اس کے والد ہلاک ہوئے تو نجم کی عمر 13 برس تھی۔ نجم نے بتایا کہ اس کا بھائی ایک صحافی ہے اس واسطے نجم نے بھی جنگ کے دوران میں زمینی رپورٹر کے طور پر کام میں دل چسپی کا اظہار کیا۔ وہ اس بات کا خواہش مند تھا کہ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے دنیا کے سامنے پیش کرے۔

اس طرح نجم نے وڈیو کلپوں (سیلفی) کے ذریعے سوشل میڈیا پر شام میں جنگ کے احوال اور خبریں دنیا کے ساتھ شیئر کرنا شروع کر دیں۔

نجم دنیا بھر میں اس جنگ کے بارے میں لکھنے والا سب سے کم عمر فرد بن گیا۔ تاہم 2018ء میں وہ پناہ گزین کے طور پر ترکی منتقل ہونے میں کامیاب رہا۔ شام میں موجود لوگوں نے نجم کے ساتھ وڈیو کلپوں کو شیئر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

نجم کے مطابق اس کے وڈیو کلپوں کے وسیع پیمانے پر پھیل جانے کے بعد سوشل میڈیا پر اس کے فالوورز کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

نجم نے بتایا کہ اس نے "زووم" کے ذریعے ہالی وڈ اداکارہ انجلینا جولی کے ساتھ دو مرتبہ بات چیت کی۔ نجم کا کہنا ہے کہ "انجلینا ایک عظیم انسان ہیں۔ میں ان سے اس واسطے متاثر ہوا کہ وہ بھی بچوں کی مدد کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان سے بات چیت کرنا ایک شان دار تجربہ تھا۔ انجلینا اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ کام کرنا میں کبھی نہیں بھول سکتا"۔

اپنی گفتگو کے آخر میں نجم نے امید ظاہر کی کہ وہ شام کی تعمیر میں شریک ہونا چاہتا ہے اور یونیورسٹی تعلیم حاصل کرنے کا خواہش مند ہے