.

ملا برادر نے آڈیو پیغام میں اپنے انتقال کی افواہوں کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان طالبان کے شریک بانی اور اب افغانستان کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر نے اپنی موت کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد آڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’وہ زندہ ہیں اور ٹھیک ہے۔‘‘

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ملا عبدالغنی برادر جنہیں گزشتہ ہفتے ملا محمد حسن اخوند نمبر دو کہا گیا تھا، نے طالبان کی طرف سے پوسٹ کیے گئے ایک آڈیو پیغام میں موت کی افواہوں کو ’جعلی پروپیگنڈا‘ قرار دیا۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر بالخصوص بھارت میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ملا عبدالغنی برادر صدارتی محل میں طالبان کے حریف دھڑوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے کے بعد جاں بحق ہو گئے تھے۔

ملا برادر نے پیغام میں کہا کہ ’میری موت کے بارے میں میڈیا میں خبریں آ رہی تھیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ چند راتوں سے میں دوروں پر مشغول ہوں، اس وقت میں جہاں بھی ہوں، میرے تمام بھائی اور دوست ہم سب ٹھیک ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میڈیا ہمیشہ جعلی پروپیگنڈا شائع کرتا ہے لہذا ان تمام جھوٹے لوگوں کو دلیری کے ساتھ مسترد کریں اور میں آپ کو 100 فیصد تصدیق کرتا ہوں کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے‘۔

اس پیغام کی تصدیق کرنا ممکن نہیں تاہم اسے طالبان کی سرکاری سائٹس پر پوسٹ کیا گیا جس میں نئی حکومت کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ کے بھی کئی سالوں سے مرنے کی افواہیں زیر گردش تھیں تاہم طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے دو ہفتے بعد طالبان کے ترجمان نے کہا تھا کہ وہ قندھار میں موجود ہیں۔

پاکستان اور افغانستان میں ہونے والی قیاس آرائیوں میں کہا گیا تھا کہ وہ کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد یا بم دھماکے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔