.

الجزائر کے سابق صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ وفات پا گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے سابق صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ الجزائر کی تاریخ میں ان کا نام اس حوالے سے محفوظ رہے گا کہ اس مردِ جری نے کرسی صدارت تک پہنچنے کے بعد ملک میں خونریز خانہ جنگی کی آگ کو بجھایا۔

الجزائر کے سرکاری ٹیلی وژن نے آج ہفتے کو علی الصبح ملک کے ساتویں صدر کی وفات کا اعلان کیا۔ الجزائر نے 1962ء میں فرانس سے خود مختاری حاصل کی تھی۔ بوتفلیقہ نے 1999ء میں پہلی مرتبہ صدارت کا منصب سنبھالا۔ وہ 2004ء ، 2009ء اور 2014ء میں بھی پھر سے صدر منتخب ہوئے۔

واضح رہے کہ بوتفلیقہ نے صدر بننے کے بعد الجزائر میں امن کی واپسی میں بڑا کردار ادا کیا۔ اس سے قبل تقریبا ایک عشرے تک جاری رہنے والی خانہ جنگی میں دو لاکھ کے قریب افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

بوتفلیقہ نے ستمبر 1999ء میں حکومتی فورسز کے خلاف لڑنے والے مسلح عناصر کے لیے معافی کا پہلا قانون جاری کیا۔ اس قانون کے تحت ہزاروں سخت گیر عناصر نے ہتھیار ڈال کر خود کو حکام کے حوالے کر دیا۔

سال 2011ء میں متعدد عرب ممالک میں "بہارِ عرب" کے آغاز کے بعد بوتفلیقہ نے ملک میں اعلان شدہ 19 سالہ ہنگامی حالت کو ختم کر دیا۔ انہوں نے ملک میں اجرتوں میں بھی اضافہ کیا۔ تاہم ملک کی اقتصادی حالت ابتر رہی۔ ملک میں بالخصوص نوجوانوں میں بے روزگاری پھیلی رہی۔

واضح رہے کہ 2013ء میں بوتفلیقہ دماغی سکتے سے متاثر ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے وہ کئی مرتبہ ہسپتال میں داخل ہوئے۔ وہ علاج کی غرض سے ایک سے زیادہ مرتبہ فرانس بھی گئے۔ اس دوران کئی بار ان کی موت سے متعلق افواہیں بھی گردش میں آئیں۔