.
افغانستان وطالبان

طالبان کو تسلیم کرنے کا معاملہ فی الوقت زیرِغور نہیں:روسی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ طالبان (حکومت)کو بین الاقوامی سطح پرتسلیم کرنے پرفی الحال غور نہیں کیا جا رہا ہے۔

لاروف نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہ نماؤں کے سالانہ اجتماع کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ان کا یہ تبصرہ طالبان کی جانب سے اقوام متحدہ میں اپنے ایلچی کی نامزدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔عالمی ادارے میں افغانستان کی نشست طالبان کودینے پرممالک کے درمیان اختلاف سامنے آیاہے۔

لاوروف نے ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’فی الوقت طالبان کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے کا معاملہ (فی الوقت) زیرغورنہیں ہے۔‘‘

طالبان کے وزیرخارجہ امیرخان متقی نے گذشتہ سوموار کو دوحہ میں مقیم اپنے ترجمان سہیل شاہین کو اقوام متحدہ میں افغانستان کا نیا سفیر نامزد کیا تھا۔ طالبان نے گذشتہ ماہ افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور اشرف غنی کی حکومت کا خاتمہ کردیا تھا۔اس کے ساتھ ہی انھوں نے غنی حکومت کے کم وبیش تمام فیصلے اور اقدامات کالعدم قرار دے دیے تھے۔

اس معزول افغان حکومت کی نیویارک میں نمائندگی کرنے والے موجودہ سفیرغلام اسحاق زئی نے بھی اقوام متحدہ سے اپنے تقرر کی تجدید کا مطالبہ کیا ہے۔

روس چین اورامریکا کے ساتھ اقوام متحدہ کی نو رکن ممالک پر مشتمل اسناد کمیٹی کا رکن ہے۔ یہ کمیٹی رواں سال کے آخر میں اقوام متحدہ میں افغانستان کی نشست پران مسابقانہ دعووں کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوٹیرس نے یہ رائے دی ہے کہ طالبان کی خود کو بین الاقوامی سطح پرتسلیم کرانے کی خواہش کو دوسرے ممالک افغانستان میں ایک جامع حکومت کے قیام اورحقوق کے احترام بالخصوص خواتین کے حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے دباؤڈالنے کے ایک حربے کے طورپراستعمال کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان 1996 سے 2001ء تک افغانستان میں اپنی پہلی حکومت کے دور میں اقوام متحدہ میں اپنے ایلچی کا تقرر نہیں کرسکے تھے۔انھوں نے جس افغان حکومت کا تختہ الٹا تھا،اسی کے مقرر کردہ سفیر عالمی ادارے میں اپنے جنگ زدہ ملک کی نمایندگی کرتے رہے تھے جبکہ تب اسناد کمیٹی نے اس نشست پرمتحارب فریقوں کے دعووں کے بارے میں اپنا فیصلہ مؤخرکردیا تھا۔