.

طالبان کے کریک ڈاؤن کے جواب میں رنگین تصاویر کے ساتھ خواتین مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں اقتدار پر طالبان کے کنٹرول کے بعد سے ملک میں شہریوں بالخصوص خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن کے اندیشوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

افغان امریکی خاتون مؤرخ بہار جلالی نے سوشل میڈیا پر ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔ مہم کا مقصد افغانستان میں روایتی اور رنگین لباسوں میں زندگی سے بھرپور رنگوں پر روشنی ڈالنا ہے۔ یہ مہم چند روز قبل دارالحکومت کابل میں طالبان کی حمایت میں اکٹھا ہونے والے مجمع کے اندر نقاب لگائی اور چہروں کو مکمل طور پر ڈھانپی ہوئی خواتین کی تصاویر سامنے آنے کے بعد شروع کی گئی ہے۔

امریکی ریاست میری لینڈ میں سکونت پذیر بہار جلالی کے مطابق انہیں اس بات کی گہری تشویش لاحق تھی کہ ان کے ملک کے ورثے اور ثقافت کو مسخ کیا جائے گا۔

اتوار کے روز فرانس پریس ایجنسی نے بتایا کہ اس سلسلے میں 56 سالہ افغان نژاد خاتون نے "Do not touch my clothes" کا ٹرینڈ چلایا ہے۔ اس کا مقصد خواتین کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں وہ رنگین افغان لباس میں ملبوس ہو کر کیمرے کی جانب مسکراتے ہوئے اپنی تصاویر پوسٹ کر سکیں۔

واضح رہے کہ بہار جلالی سات برس کی عمر میں امریکا منتقل ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں 2009ء میں وہ کابل میں امریکی یونیورسٹی میں تاریخ کا مضمون پڑھنے کے واپس آئیں۔ افغانستان میں 8.5 برس گزار کر وہ امریکا لوٹ گئیں۔

بہار جلالی کی یہ سوشل میڈیا مہم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طالبان تحریک کی جانب سے خواتین کے حوالے سے کئی قوانین اور ضوابط کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ ان میں خواتین کو کام پر جانے سے روک دیا جانا اور پبلک سیکٹر میں عارضی طور پر انہیں کسی بھی طرح کی سرگرمی سے محروم کر دینا شامل ہے۔