.

ایران نے جوہری پروگرام کی’سرخ لکیریں‘عبورکرلیں: اسرائیلی وزیراعظم بینیٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا ہےکہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں ’تمام سرخ لکیریں‘عبور کرلی ہیں۔انھوں نے اس عزم کا اظہارکیا ہے کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیارحاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں بینیٹ نے کہا کہ ایران نے مشرقِ اوسط میں’جوہری چھتری‘تلےغلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔اس کی جوہری سرگرمیوں کوروکنے کے لیے مزید ٹھوس اورمربوط بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت ہے۔

لیکن انھوں نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف اپنے طور پرکارروائی کے امکانات کا بھی اشارہ دیا ہے۔ صہیونی ریاست کے لیڈر ماضی میں بھی ایران کے خلاف کارروائی کی بار بار دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔

بینیٹ کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔اس نے ہماری رواداری بھی متاثر کی ہے۔محض الفاظ سے سینٹری فیوجز کی حرکت کو روکا نہیں جاسکتا ہے۔

انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان نفتالی بینیٹ جون میں اسرائیل کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے اورانتہاپسند بنیامین نیتن یاہو کے 12 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا۔بینیٹ اب یہ چاہتے ہیں کہ امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل کے علاقائی دشمن ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کریں۔

وہ 2015ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے نئی امریکی انتظامیہ کی کوششوں کے بھی مخالف ہیں۔بائیڈن کے پیش رو صدرڈونلڈ ٹرمپ 2018ءمیں اس سمجھوتے سے دستبردار ہوگئے تھے۔

ویانا میں امریکا اورایران کے درمیان اس جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے گذشتہ تین ماہ سے بالواسطہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان اپریل سے جون تک بالواسطہ مذاکرات ہوئے تھے لیکن ان میں دوطرفہ اختلافی امورطے نہیں ہوسکے تھے۔اب امریکا ایران کے نئے سخت گیرصدر ابراہیم رئیسی کے اگلے اقدام کا منتظر ہے۔

نفتالی بینیٹ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس میں اپنے پیش رونیتن یاہو کے مقابلے میں کم سخت اورترش لہجہ اختیار کیا ہے۔نیتن یاہو اکثر عالمی فورموں پرایران کے خلاف اپنے الزامات کو ڈرامائی شکل دینے کے لیے بصری آلات پر انحصار کرتے تھے۔ان کے طرزعمل کو ناقدین ایک سیاسی اسٹنٹ قرار دیتے تھے اورانھیں طنز کا نشانہ بناتے رہتے تھے۔

لیکن بینیٹ کا بھی نیتن یاہو کی طرح بالاصرارکہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ہرممکن اقدام کیا جائے گاکیونکہ اسرائیل ایک جوہری ایران کواپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے جبکہ ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے کہ وہ جوہری بم بنانا چاہتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ایران کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام ایک نازک مقام پر ہے۔اس نے تمام سرخ لکیریں عبورکرلی ہیں،اس نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے معائنے کو نظرانداز کردیا ہے اور اب وہ اس سے دورہٹ رہا ہے۔‘‘