یورپی یونین میں خارجہ امور اور سیکورٹی پالیسی کے اعلی ترجمان جوسیپ بورل کا کہنا ہے کہ یورپی یونین یمن میں فائر بندی کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر فریقوں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
آج پیر کے روز اپنی ٹویٹ میں انہوں نے ریاض کے دورے کے دوران میں یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی سے ملاقات کا حوالہ دیا۔ بورل نے یمنی حکومت کے ایک بار پھر سے عدن سے کام شروع کرنے کے حوالے سے یورپی یونین کی سپورٹ کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونین یمنی عوام کی بھی انسانی مدد کر رہی ہے جس کی انہیں شدید ضرورت ہے۔
Concluded visit to Riyadh meeting @HadiPresident expressed #EU support for Yemeni government returning to and operating from Aden. EU works with @UN and others to achieve ceasefire, supporting also Yemeni people with badly-needed humanitarian assistance.
— Josep Borrell Fontelles (@JosepBorrellF) October 4, 2021
اس سے قبل سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اتوار کے روز یورپی یونین میں خارجہ تعلقات کے کمشنر جوسیپ بورل سے ملاقات کے بعد کہا کہ "مملکت اور یورپی یونین کے تعلقات گہرے اور تاریخی ہیں"۔ انہوں نے یہ بات ریاض میں بورل کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرس سے خطاب کے دوران کہی۔
اس موقع پر جوسیپ بورل نے بتایا کہ انھوں نے افغانستان اور یمن کی صورت حال کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یورپی یونین خلیجی عرب ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے کرنے کو تیار ہے۔
سعودی وزیرخارجہ نے بتایا کہ انھوں نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کے ساتھ متعدد دو طرفہ اور علاقائی امور پر بات چیت کی ہے۔ انھوں نے ملاقات میں مملکت کے ویژن 2030 کے تحت دو طرفہ تعاون کے فروغ کے مواقع کا جائزہ لیا ہے۔