.

جرمنی نے شام کے حراستی کیمپوں میں موجود داعشی خواتین اور بچوں کو واپس لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی نے شام کے حراستی کیمپوں میں موجود داعشی خواتین اور ان کے بچوں کو واپس لینا شروع کردیا ہے۔ سنہ 2019ء کے بعد یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اور منفرد آپریشن میں جس میں جرمن نژاد داعشی خواتین اور ان کے جنگجؤوں سے پیدا ہونے والے بچوں کو واپس کیا جا رہا ہے۔

بدھ کی رات جرمن وزیر خارجہ ہیکو ماس نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت نے شمال مشرقی شام سے جرمن پلٹ آٹھ خواتین جو داعش کی صفوں میں شامل ہوئی ہیں کو واپس لیا ہے۔ ان کے ساتھ ان کے 23 بچے بھی شامل ہیں۔

ماس نے ایک بیان میں کہا کہ ان داعشی خواتین کے بچے جس صورت حال سے گذر رہے ہیں وہ خود اس کے ذمہ دار نہیں۔

ماؤں کو ان کے کیے گئے کاموں کے لیے فوجداری انصاف کے نظام کے سامنے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ایک بڑی تعداد کو جرمنی پہنچنے کے بعد جیل میں رکھا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ داعشی خواتین اور ان کے بچوں کی واپسی کے عمل میں امریکی فوج نے لاجسٹک مدد فراہم کی ہے۔ اس دوران ڈنمارک کی تین خواتین اور ان کے چودہ بچوں کو بھی واپس کیا گیا ہے۔

جرمن وزیر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہم آج شام جرمنی واپس آنے میں کامیاب ہوئے 23 دیگر جرمن بچے اوران کی آٹھ ماؤں کو واپس لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ واپس آنے والوں ، خاص طور پر بچوں کو "خاص طور پر تحفظ کی ضرورت" ہے۔

بیان میں وضاحت کی گئی یہ بنیادی طور پر ان بچوں کے بارے میں ہے جو یا تو بیمار ہیں یا جن کا جرمنی میں سرپرست اور ان کے بھائی ، بہنوں یا ماؤں میں سے کوئی موجود ہے۔