.

نیوکیسل یونائیٹڈ کا باضابطہ کنٹرول سعودی سرمایہ کاری فنڈ کی قیادت میں کنسورشیم کےسپرد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی پریمیئر لیگ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے نیوکیسل یونائیٹڈ کا باضابطہ طور پر کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

پریمیئر لیگ نے اپنے بیان میں کہاہے کہ مالکان اور ڈائریکٹرز کے ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد فٹ بال کلب کو فوری طورپر کنسورشیم کو فروخت کر دیا گیا ہے۔

اس کنسورشیم میں پی سی پی کیپیٹل پارٹنرز اور آر بی اسپورٹس اینڈ میڈیا شامل ہیں۔ پی آئی ایف کے پاس کلب کے سب سے زیادہ 80 فی صد حصص ہیں جبکہ پی سی پی کیپیٹل پارٹنرز اور آر بی اسپورٹس اینڈ میڈیا میں سے ہر ایک کے پاس 10 فی صد حصص ہیں۔

newcastle
newcastle

سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ کے گورنر یاسر الرمیان نے کہا :’’ہمیں انگلش فٹ بال کے مشہورترین کلب نیوکیسل یونائیٹڈ کے نئے مالک بننے پر بے حد فخر ہے۔ ہم نیو کیسل کے مداحوں کا ان کی گذشتہ برسوں میں زبردست وفاشعار حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہیں اور ہم ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔‘‘

یاسرالرمیان نیوکیسل یونائیٹڈ کے نان ایگزیکٹو چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ پی سی پی کیپیٹل پارٹنرز کی چیف ایگزیکٹو برطانوی کاروباری خاتون امنڈا اسٹیولے کلب کے بورڈ کی رکن ہوں گی۔ جیمی روبن آر بی اسپورٹس اینڈ میڈیا کی نمائندگی کرتے ہوئے کلب میں ایک ڈائریکٹرہوں گے۔

نیوکیسل یونائیٹڈ اس سے قبل برطانوی تاجر اور کھیلوں کا سامان فروخت کرنے والی کمپنی ’اسپورٹس ڈائریکٹ‘ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) مائیک ایشلے کی ملکیت تھی۔انھوں نے 2007ء میں یہ ٹیم ساڑھے سترہ کروڑ ڈالر میں خرید کی تھی۔فٹ بال کے بہت سے شائقین ایشلے کے دورملکیت سے ناخوش تھے اور انھوں نے کلب میں سرمایہ کاری میں کمی پرایشلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

پی آئی ایف کی قیادت میں کلب پراکتالیس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد انتظامی کنٹرول کے معاملات کا تنازع چل رہا تھا اور پہلے یہ طے نہیں ہوا تھا کہ نیوکیسل کے انتظام میں سعودی عرب کی حکومت کا کیا کردار ہوگا اور اس کا کتنا کنٹرول ہو گا۔

پریمیئر لیگ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہےکہ ’’یہ تمام تنازعات قانونی طور پر پابند یقین دہانیاں حاصل کرنے کے بعد طے کرلیے گئے تھے اور یہ طے پایاتھا کہ مملکت سعودی عرب نیوکیسل یونائیٹڈ فٹ بال کلب کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں نہیں لے گی۔‘‘ معاہدے کے بعد سے سعودی عرب کو یورپی فٹبال میں نمائندگی کا موقع مل گیا ہے۔