.

العبدیہ میں انسانی المیے سے خبردار کرتے ہیں: یمنی وزیر اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ مارب صوبے کے ضلع العبدیہ کے محاصرے کے نتیجے میں جلد ایک انسانی المیہ رونما ہو سکتا ہے۔ حوثی ملیشیا نے تقریبا ایک ماہ سے مذکورہ علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

الاریانی نے خبردار کیا ہے کہ العبدیہ میں ادویات اور طبی لوازمات کا اسٹاک ختم ہو رہا ہے۔ ڈیزل ختم ہونے اور بجلی مکمل طور پر منقطع ہونے کے نتیجے میں ضلع کے واحد ہسپتال میں آلات نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔

یمنی وزیر کے مطابق العبدیہ ضلع میں طبی ذرائع نے حوثیوں کی جانب سے دیہات اور گھروں پر اندھادھند بم باری کی وجہ سے 160 شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

دوسری جانب یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد کی افواج نے باور کرایا ہے کہ مارب کے ضلع العبدیہ میں شہریوں کے تحفظ کے واسطے یمنی وزارت دفاع کے اقدامات میں مدد کر رہی ہیں۔ مزید یہ کہ یمن میں تمام عسکری کارروائیاں بین الاقوامی اور انسانی قانون کے مطابق عمل میں لائی جا رہی ہیں۔

یمنی حکومت نے منگل کی شام اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس اور سلامتی کونسل کو ایک خط ارسال کیا۔ اس میں حوثی ملیشیا کی جانب سے یمنی شہریوں کے خلاف بالخصوص مارب صوبے کے ضلع العبدیہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا۔ یہ خط اقوام متحدہ میں یمن کے مستقل مندوب عبداللہ السعدی نے پیش کیا۔ خط میں حوثیوں کی جانب سے 21 ستمبر سے جاری العبدیہ کے محاصرے کے نتیجے میں جنم لینے والی ابتر انسانی صورت حال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

خط میں حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے العبدیہ میں 5300 گھرانوں (مجموعی طور پر 35000 شہریوں) کو تقریبا تین ہفتوں سے غذا ، پانی ، ادویات اور بچوں کے دودھ سے محروم کر رکھا ہے۔ اس محاصرے کے نتیجے میں اب تک کم از کم تین شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ غذا اور پانی کی قلت کے سبب یمنی شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔

العبدیہ میں کم از کم 9827 بچے غذائی خرابی کا شکار ہیں جن میں 2465 بچے شدید خرابی سے دوچار ہیں۔ اسی طرح 3451 خواتین کو طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ حوثیوں کے محاصرے نے 34 مریضوں کو ہنگامی طبی نگہداشت سے محروم کیا ہوا ہے۔