.

پابندیاں برقراررہیں توافغان مہاجرین مغرب کا رُخ کرسکتے ہیں:طالبان کاانتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کی نئی طالبان حکومت نے امریکا اور یورپ کے ایلچیوں کوخبردارکیا ہے کہ پابندیوں کے ذریعے ان پر دباؤ ڈالنے کی مسلسل کوششوں سے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچے گا اوراس سے بہتر معاش کی تلاش میں مغربی ممالک کا رُخ کرنے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

طالبان کے قائم مقام وزیرخارجہ امیرخان متقی نے دوحہ میں منگل کی شام مذاکرات میں مغربی سفارت کاروں کو بتایا کہ ’’افغان حکومت کو کمزور کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگاکیونکہ اس کے براہ راست منفی اثرات ملک کی سلامتی پر مرتب ہوں گے اورروزگار کے لیے نقل مکانی میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے پوری دنیا متاثر ہوسکتی ہے۔‘‘

طالبان نے افغانستان میں دو دہائیوں سے جاری مسلح تنازع کے بعد اگست میں امریکا کے حمایت یافتہ صدراشرف غنی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور اقتدار سنبھال لیا تھا لیکن ان کی ملک کو مستحکم کرنے کی کوششوں کو بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے۔ان کے علاوہ انھیں حریف انتہاپسند جنگجوگروپ داعش کے حملوں کا سامنا ہے۔افغان بنکوں میں نقدرقم ختم ہورہی ہے اور سرکاری ملازمین کو تن خواہوں کی ادائی کے لیے رقوم نہیں ہے۔

افغان ترجمان کے بیان کے مطابق، امیرخان متقی نے دوحہ میں اجلاس میں کہا:’’ہم عالمی ممالک پرزوردیتے ہیں کہ وہ موجودہ پابندیوں کو ختم کریں اور بنکوں کو معمول کے مطابق کام کرنے دیں تاکہ حکومت ،خیراتی گروپ اور تنظیمیں بیرون سے ملنے والی مالی امداد سے اپنے عملہ اورملازمین کو تنخواہیں ادا کر سکیں۔‘‘

دوسری جانب یورپی ممالک کو یہ بھی تشویش لاحق ہے کہ اگر افغانستان کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے تو بڑی تعداد میں افغان تارکین وطن ہمسایہ ریاستوں پاکستان اور ایران کا رُخ کریں گے اور بالآخر ان کا یورپی یونین کی سرحدوں پر دباؤ بڑھ جائے گا۔

امریکا اور یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں انسانی بھلائی کے اقدامات کی حمایت کے لیے تو تیار ہیں لیکن وہ طالبان کوبراہ راست مدد مہیا کرنے کو تیارنہیں اور وہ اس بات کی ضمانت چاہتے ہیں کہ طالبان انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کا احترام کریں۔