.

حوثیوں کی طرف سے کم سن بیٹے کو موت کی سزا سنائے جانے پر باپ چل بسا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں الحدیدہ صوبے میں حوثی ملیشیا کے ہاتھوں اغوا ہونے والے ایک لڑکے کا باپ اتوار کی شام فوت ہو گیا۔ حوثیوں نے باجل کے علاقے سے تعلق رکھنے والے اس کم عمر لڑکے کے خلاف جبری سزائے موت کا فیصلہ جاری کیا تھا جس کو اس کا باپ برداشت نہ کر سکا اور چل بسا۔

ایڈوکیٹ عبدالمجيد صبره کے مطابق یمنی شہری احمد سالم ساجد نے جب یہ سنا کہ حوثی ملیشیا نے اس کے بیٹے ابراہیم کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ جاری کیا ہے تو وہ شدید صدمے سے نڈھال ہو گیا۔ احمد کو 11 اکتوبر کو الحدیدہ کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ چند روز رہنے کے بعد 24 اکتوبر کو انتقال کر گیا۔

ایڈوکیٹ صبرہ نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ حوثی ملیشیا نے اپنے ایک رہ نما الصماد کے قتل کے کیس میں نو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں حوثیوں کے ہاتھوں اغوا اور گرفتار شدگان کے گھر والے شدید خوف اور دہشت کا شکار ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ احمد کے بیٹے ابراہیم کو ستمبر 2016ء میں البیضاء صوبے کے ضلع رداع میں ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر یمنی حکومت کے لیے مخبری کا الزام تھا۔

حوثی ملیشیا نے گذشتہ ماہ ستمبر کے اختتام پر 9 کم عمر یمنی شہریوں کی موت کی سزا پر عمل درامد کیا تھا۔ ان پر حوثی رہ نما صالح الصماد کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ الصماد یمن کی آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کو مطلوب "حوثی دہشت گردوں کی فہرست" میں شامل تھا۔ وہ اتحادی طیاروں کے فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔