.
افغانستان وطالبان

ایران طالبان حکومت کو تسلیم کرانے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے:حکمت یار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کی حزب اسلامی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے ایران پر الزام اید کیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

خیال رہے کہ رواں اگست کے وسط سے افغانستان کا مکمل کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان عالمی سطح پر اپنی حکومت کو تسلیم کرانے پر زور دے رہی ہیں۔

ایسے میں افغان حزب اسلامی کے رہ نما گلبدین حکمت یار نے انکشاف کیا کہ ایران تحریک طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاں چین، روس، پاکستان اور دیگر کئی ہمسایہ ممالک طالبان کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہاں ایران نے اس کارروائی کو روکنے کے لیے ایک کانفرنس منعقد کی۔

حکمت یار نے وضاحت کی کہ افغان چاہتے ہیں کہ ان کے تمام پڑوسی افغانستان کے حوالے سے مثبت اور تعمیری پالیسی اپنائیں۔ افغان تمام پڑوسیوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ان کے ملک کے معاملات میں مداخلت نہ کریں اور جنگی جاری رکھنے کے لیے تعاون اور سرمایہ کاری بند کریں۔

خیال رہے کہ تہران نے گذشتہ ماہ کی 27 تاریخ کو "افغانستان کے پڑوسی ممالک کی" کانفرنس کی میزبانی کی تھی جس میں طالبان نے شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جامع حکومت کی تشکیل

18 اکتوبر کو ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ چھ ممالک ایران، چین، پاکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان تہران میں وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

کانفرنس میں شریک ممالک نے اپنی کوششوں پر توجہ افغانستان میں تمام نسلی گروہوں کی شمولیت سے ایک جامع حکومت کی تشکیل میں پر مرکوز کی۔

ذبیح اللہ مجاہد
ذبیح اللہ مجاہد

قابل ذکر ہے کہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے گذشتہ ستمبر میں عالمی برادری سے طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے بیرون ملک موجود افغانستان کےمنجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔