.

ایران خطیر رقم کے ذریعے شام میں حوران اور گولان کے لوگوں کو خریدنے میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے حالیہ مہینوں میں شام کے جنوب میں حوران اور گولان کے علاقوں میں واقع دیہات میں کئی فریقوں کو ڈالروں سے بھرے سوٹ کیس بھیجے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد اپنے سیاسی اور نظریاتی مقاصد کے واسطے رائے عامہ ہموار کرنا ہے۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ مالی رقوم السویداء شہر میں عرب درزی فرقے کی قیادت تک پہنچائی گئی۔ ان میں بعض عناصر شامی حکومت کی تائید کے سبب جانے جاتے ہیں اور وہ ایران اور حزب اللہ کی جانب اپنے جھکاؤ کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسی طرح قرفا قصبے کی قیادت کو بھی مالی رقوم بھجی گئی ہیں۔ ایران اس قصبے کی سنی اکثریت کو شیعہ اکثریت میں بدل دینے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں بعض دیگر فریقوں کو بھی مال کے ذریعے خریدا گیا تا کہ انہیں لبنانی حزب اللہ کے مشنوں کو آسان بنانے میں استعمال کیا جا سکے۔

الشرق الاسط کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کی نئی رپورٹ میں حوالہ دیا گیا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے شام کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں اور اسی طرح لبنان کے ساتھ سرحد کے نزدیک بہت بڑی تعداد میں گھروں اور اراضی کو خریدا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ایران سے اور خطے میں دیگر ممالک مثلا افغانستان، یمن اور عراق سے شیعہ آبادی کو لا کر یہاں بسایا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ مقامی آبادی کی غربت اور فاقہ کشی کا استحصال کرتے ہوئے خیراتی ادارے قائم کر کے ان کے مواقف کو اپنا ہمنوا بنایا جا رہا ہے۔

اسرائیلی رپورٹ کے مطابق خانہ جنگی کے باعث لاکھوں شامیوں کے اپنے وطن سے فرار نے آبادی میں بہت بڑا خلا پیدا کر دیا۔ اس خلا کو ایران اپنی ملیشیاؤں کے عناصر اور دیگر من پسند افراد کے ذریعے پُر کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی یہ سرگرمی بشار حکومت کے لیے باعث تشویش ہے۔ مزید یہ کہ اس سرگرمی سے اسرائیل، روس اور خطے کے کئی ممالک کو بے چینی ہو رہی ہے۔ شام میں ایرانی عسکری وجود کے خلاف لڑنے والے اسرائیل کو ایرانی کی شہری آباد کاری کا مقابلہ کرنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا ہے۔

رپورٹ میں اسرائیلی فوج کے کئی افسران کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران نے کامیابی کے ساتھ لبنان کے جنوبی حصے کو مکمل طور پر حزب اللہ کے زیر کنٹرول بنا دیا اور اب وہ اسی طریقے سے شام کے جنوبی حصے پر کام کر رہا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ شام کے جنوب سے داعش تنظیم کو بے دخل کرنے کی خوشی قبل از وقت ثابت ہو رہی ہے کیوں کہ اس کا متبادل کسی طور بھی شامیوں ، اسرائیلیوں یا ایرانی غلبے کے مخالفین کے واسطے کم خطرناک نہیں ہے۔