.

حزب اللہ ہماری سرزمین پر مجرمانہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے: کولمبیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کولمبیا نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کولمبیا کی سرزمین پر "مجرمانہ سرگرمیاں" انجام دے رہی ہے۔ کولمبیا کے مطابق وہ حزب کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہے۔

یہ بات کولمبیا کے وزیر دفاع ڈیاگو مولانو نے ایک مقامی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ اتوار کے روز شائع انٹرویو میں مولانو کا کہنا تھا کہ "دو ماہ سے ہم اس صورت حال سے نمٹنے پر مجبور ہو گئے اور ہم نے حزب اللہ سے مربوط مجرموں کو حراست میں لے کر ملک سے بے دخلی کی کارروائی کی۔ یہ افراد کولمبیا میں مجرمانہ افعال کا ارادہ رکھتے تھے"۔

مذکورہ وزیر نے تو ان افعال کی تفصیل نہیں پیش کی تاہم اخبار نے عسکری انٹیلی جنس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حزب اللہ نے ممکنہ طور پر کولمبیا میں امریکی اور اسرائیلی سفارت کاروں اور کاروباری شخصیات کی نقل و حرکت کے تعاقب کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ کولمبیا میں لبنانی کمینوٹی کے افراد کی بڑی تعداد رہتی ہے۔

مولانو کے مطابق وینزویلا میں موجود حزب اللہ کے عناصر اور منشیات کی اسمگلنگ یا دہشت گرد جماعتوں کے ساتھ ان کے تعلق کے سبب کولمبیا کی قومی سلامتی کو خطرہ ہے۔

کولمبیا اور وینزویلا کے بیچ نہایت کشیدہ تعلقات ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد 2015ء سے تقریبا مکمل طور پر بند ہے۔

کولمبیا کے وزیر دفاع نے ایک ہفتہ قبل اسرائیل کے سرکاری دورے کے دوران میں کہا تھا کہ دونوں ملکوں کا دشمن مشترکہ ہے اور وہ "ایران اور حزب اللہ" ہیں۔ یہ دونوں ہی اسرائیل کے خلاف سرگرم ہیں اور وینزویلا میں حکومتی نظام کی حمایت کرتے ہیں۔

تاہم کل اتوار کے روز مولانو نے اپنے ایران معاند بیان سے یوٹرن لے لیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ اسرائیل میں سامنے آنے والا بیان "جلد بازی میں دیا گیا تھا"۔ میلانو کے بیان کے سبب کولمبیا اور ایران کے بیچ بحران پیدا ہو گیا تھا۔

مولانو کے بیان کے رد عمل میں ایرانی حکومت کا موقف سامنے آ گیا جس کے کولمبیا کے ساتھ تعلقات 1975ء سے ہیں۔ کولمبیا میں ایرانی سفیر محمد علی ضیائی نے ایک بیان میں واضح کیا کہ "ایران اور کولمبیا دوست ممالک ہیں جن کے بیچ تاریخی تعلقات ہیں۔ اس تعلق کو برباد کرنا عوام کے مفاد میں نہیں ہے"۔