.

عائشہ قذافی نے سیف الاسلام کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی حمایت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مقتول مرد آہن کرنل مُعمر قذافی کی بیٹی عائشہ قذافی نے ہفتے کے روز ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اگلے ماہ لیبیا کے صدر کے لیے ہونے والے انتخابات میں اپنے بھائی کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی حمایت کی ہے۔

پریس کو جاری ایک بیان میں عائشہ قذافی کا کہنا ہے کہ ’میرے پیارے ملک کے بیٹوں، لیبیا کی آزاد عورتوں، ماؤں، ، شہیدوں کی بہنوں اور وطن کے شریف لوگوں جن کے لیے میرے والد اپنی گواہی میں سفارش کی تھی، اب وقت آگیا ہے کہ ہم ذلت کی اس تاریک رات کو صبح روشن میں تبدیل کر دیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تاریخ کے تجربات نے ہمیں سکھایا ہے کہ قوموں کو بیدار کرنے کے لیے لڑائیوں کے اوزار حالات، اعداد و شمار اور تغیرات کے مطابق مختلف ہوتے ہیں کیونکہ ان میں وطن سے کچھ نہیں ہوتا۔"

عائشہ قذافی نے مزید کہا کہ "اے آزاد اور معزز لیبیا: سچائی کی گھڑی آ گئی ہے۔ وقت کی پکار ہے کہ آپ کے اور میرے بھائی ڈاکٹر سیف الاسلام معمر القذافی ہمارے امیدوار ہیں۔ سیف الاسلام جسے آپ نے خوشحالی اور مصیبت میں، مشکلات اور آسانیوں میں اچھی طرح جانتے ہیں۔ سیف الاسلام نے اپنی نظریں لیبیا پرجمائے رکھیں۔ انہیں ملک چھوڑنے کے لیے لالچ اور بڑی بڑی پیش کشیں کی گئیں مگر انہوں نے وطن چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے لیبیا کو ترجیح دی حالانکہ انہیں موت کا خطرہ تھا۔ اس کے خلاف سازشیں کی جارہی تھیں جو لیبیا کے لیے بہتری نہیں چاہتے تھے لیکن یہ اس کا واحد آپشن تھا، ہے اور رہے گا۔

سیف الاسلام جنہوں نے گذشتہ اتوار کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ ہمارے عظیم لوگوں کے بیٹوں اپنے زخموں سے تجاوز کرو کیونکہ لیبیا کا گہرا زخم جو مندمل نہیں ہوا اس نے سب کو تکلیف دی ہے۔