یمن اور حوثی

عرب اتحادی فوج نے صنعا ہوائی اڈے سے اڑایا گیا بمبار ڈرون مار گرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں آئینی حکومت کے دفاع میں لڑنے والے عرب عسکری اتحاد نے ایک بیان میں کہا ہےکہ اتحادی فوج نے صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے والے ایک بمبار ڈرون کو مار گرایا ہے۔

انہوں نے بدھ کی صبح ایک بیان میں کہا کہ طیارہ یمنی دارالحکومت کے ہوائی اڈے سے اڑان بھری اور عمران گورنری کی فضائی حدود میں اسے روک لیا گیا اور مار گرایا گیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ڈرون کو ہوائی اڈے پر ایئر ڈیفنس بٹالین میں رکھا کیا گیا تھا۔ عرب اتجادی فوج نے بتایا کہ وارننگ کے بعد حوثیوں کی بٹالین سے بڑے ہتھیار منتقل کرنے کی کوشش کی۔

اتحاد نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے ڈرون کے خطرے کے منبع کی نشاندہی کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہےکہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کو بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے روایتی قوانین کے مطابق خطرے کا فوری جواب دیا جائے گا۔

قبل ازیں عرب اتحادی فوج نے حوثیوں کی ایک بمبار کشتی کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔ یہ بمبار کشتی الحدیدہ گورنری سے بھیجی گئی تھی۔عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے جہاز رانی کی آزادی کو خطرہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

صنعا میں پاسداران انقلاب کے خفیہ ٹھکانے پرحملہ

یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد نے منگل کی صبح اعلان کیا کہ اس نے صنعا کے اندر ایرانی پاسداران انقلاب کے ماہرین کےایک خفیہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے۔

اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے یمنی دارالحکومت صنعا میں بیلسٹک میزائلوں کے ایک ڈپو کو فضائی حملےمیں تباہ کر دیا ہے اور ساتھ ہی صنعاء کے ہوائی اڈے سے منسلک الدیلمی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے اور کی ورکشاپس کو تباہ کر دیا ہے۔

اتحاد نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس نے شہریوں اور شہری عوامی تنصیبات کو کولیٹرل نقصان سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔

صنعا ہوائی اڈا
صنعا ہوائی اڈا

اس سے قبل پیر اور منگل کی درمیانی شب عرب اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ اس نے صنعا میں حوثی ملیشیا سے تعلق رکھنے والے "جائز فوجی اہداف" پر فضائی حملے کیے ہیں۔

اتحاد نے شہریوں سے کہا کہ ہدف بنائے گئے مقامات پر جمع نہ ہوں اور نہ ہی ان تک پہنچیں۔ اتحاد نے زور دیا کہ یہ آپریشن "بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے روایتی قوانین کے مطابق ہے۔

اتوار کو اتحاد نے کہا تھا کہ اس نے صنعا ایئرپورٹ پر پاسداران انقلاب اور حزب اللہ کے ماہرین کا فوجی اڈا بن گیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملیشیا سرحد پار سے حملے کرنے کے لیے قانونی استثنیٰ والی جگہوں کا استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہوا تو وہ استثنیٰ سے دستبردار ہونے کے لیے قانونی کارروائی کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں