امریکی بحریہ نے عمان کے نزدیک جہازپردھماکے کے بعد ایرانی منشیات اسمگلروں کوبچا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی بحریہ نے جمعرات کو انکشاف کیا ہے کہ اس نے عمان کے ساحل پر روایتی بحری جہاز پرآگ لگنے کے بعدمنشیات کی اسمگلنگ کی ملوث پانچ ایرانیوں کو بچا لیا ہے۔البتہ ایک شخص لاپتاہے۔اس کا کہنا ہے کہ بظاہرمنشیات کے ان اسمگلروں ہی نے جہاز پر اپنے سامان کو آگ لگائی تھی جس کے بعد ایک دھماکا ہوا تھا۔

امریکی بحریہ کے اہلکاروں کو خلیج عمان سے سفر کے دوران میں بدھ کوفضائی نگرانی کی فوٹیج سے ایرانی اسمگلروں کے جہاز میں آگ لگنے کا پتا چلا تھا۔ انھوں نے جہاز سے دھواں اٹھتے دیکھا اوراس میں ایک دھماکا بھی ہوا تھا۔

سمندرمیں گشت پر مامور یو ایس ایس سیروکو کے سیلرزبعد میں ان افراد کو بچانے کے پہنچے تھے۔انھوں نے 1745 کلوگرام (3850 پاؤنڈ) سے زائد چرس، 500 کلوگرام (1100 پاؤنڈ) میتھامفیٹن اور 30 کلوگرام (66 پاؤنڈ) ہیروئن بھی برآمد کی ہے۔ بحریہ نے جہاز سے برآمد شدہ منشیات کی مالیت قریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالربتائی ہے۔

امریکی بحریہ کےمشرق اوسط میں موجود پانچویں بحری بیڑے کے ترجمان کمانڈر ٹموتھی ہاکنز نے بتایا کہ سیلرز کے خیال میں جہازمیں موجود تمام منشیات میں سے صرف نصف مقدار کو برآمد کیا جاسکا ہے،منشیات کی باقی مقدارآتش زدگی کے بعد جل رہی تھی یا جہاز کے ساتھ ڈوب رہی تھی۔

بحریہ نے بتایا کہ بازیاب کرائے گئے پانچوں ایرانیوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور انھیں عمان کے حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ایران نے جمعرات تک اس واقعے کو تسلیم نہیں کیاتھا۔

خطے میں موجود امریکی بحریہ اور اس کی اتحادی افواج مشرق اوسط میں تمام آبی گذرگاہوں میں منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے گشت کررہی ہیں۔ اسمگلر اکثر افغانستان سے ہیروئن لانے کے لیے چھوٹے جہاز یا بادبانی کشتیاں استعمال کرتے ہیں اورخطے میں خاموشی سے دیگر منشیات بھی لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

رائٹرز اور دوسری خبررساں ایجنسیوں کے ذریعے برسوں سے یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ ایران اور عمان کے درمیان خطرناک پانیوں کے پارسامان کی نقل وحمل کرنے والے ایرانی خریداروں کی سرگرمی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں