یمن کے تعلیمی اداروں سے وابستہ ذرائع کے حوالے سے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایک حوثی تنظیم یونیورسٹی کے طلباء کی جاسوسی کے بعد انہیں اپنے مقاصد کی تکمیل کے بھرتی کرتی ہے۔ اسے "یونیورسٹی اسٹوڈنٹ فورم" کا نام دیا گیا ہے۔ یمن کی مختلف یونیورسٹیوں میں اس کی شاخیں موجود ہیں اور اس کے بھرتی کیے گے مخبروں اور کارکنوں کی تعداد 794 ہو گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ خفیہ تنظیم طلباء کو بھرتی کرنے اور انہیں فرقہ وارانہ سرگرمیوں کے لیے متحرک کرنے میں ملوث ہے۔ صنعاء کی ایک نجی یونیورسٹی کی شاخ نے اس سال 100 سے زائد طلباء کو بھرتی کیا اور 200 سے زائد کے اغوا کے پیچھے بھی اسی کا ہاتھ تھا۔
فورم جو دھمکیوں اور بلیک میلنگ کرتا ہے
ذرائع نے نشاندہی کی کہ یہ فورم پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں بہت فعال ہے، خاص طور پر جن پر حوثی رہ نماؤں نے قبضہ کیا ہے اور ان کی ملکیت آئینی مالکان اور سرمایہ کاروں کے پاس ہے۔
ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ فورم داعش اور القاعدہ سے اپنے رویے میں مختلف نہیں ہے کیونکہ یہ طالبات اور ان کےلباس کا تعاقب کرتا ہے اور گریجویشن کی تقریبات کو روکتا ہے۔
اس خفیہ رپورٹ میں، جس کی ایک نقل العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہوئی ہے میں اسے فورم کے عہدیداروں نے عدالتی محافظ اور فورم کے سپریم نگران مقرر کیے گئے۔ اس گروپ کی قیادت راید الشاعر اور ان کے نائب محمد الوادعی کے پاس ہے۔ یونیورسٹی کے طلباء میں قانونی حیثیت کے حق میں کام کرنے والے طلبا نے اس گروپ کی نشاندہی کی۔
اسی تناظر میں یمنی ماہرین تعلیم نے رپورٹ کیا کہ حوثیوں کی جانب سے مقرر کردہ یونیورسٹیوں کے سربراہوں میں دہشت کی کیفیت کو ہوا دی، جس کی وجہ سے انہوں نے بغاوت کرنے والے سیل کے عناصر پر اپنی نقل و حرکت کم کرنے اور خفیہ طور پر کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔