پرانی اشیا جمع کرنا بہت سے لوگوں کا مشغلہ ہوتا ہے مگر سعودی عرب میں ایک شہری نے حج اور عمرہ کی غرض سے مملکت میں آنے والے غیر ملکیوں اور مقامی مسلمانوں کے زیر استعمال رہنے والی اشیا جمع کر کے اسے ایک منفرد یادگار بنائی ہے۔
سعودی عرب میں آثار قدیمہ میں گہری دلچسپی رکھنے والے ماجد السھلی نے بتایا کہ آج عمرہ زائرین جو چیزیں استعمال کرتے ہیں وہ ماضی میں معتمرین کے زیر استعمال اشیا سے مختلف ہیں۔ اس نے بتایا کہ میں نے 24 سال پیشتر معتمرین کے زیر استعمال چیزیں جن میں پانی کے برتن شامل ہیں جمع کر رکھے ہیں۔
ماجد السھلی نے اپنے گھر میں ایک جامع عجائب گھر بنا رکھا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تقریباً 24 سال قبل میں نے قدیم زائرین کے زیراستعمال اشیا سمیت ورثے کے نمونوں کو اکٹھا کیا۔ اس نے کہا کہا کہ مجھے حجاج اور معتمرین کی اشیا میں دلچسپی تھی اور مکہ مکرمہ میں زائرین کے راستوں پر موجود قیام گاہوں سے پرانی اور متروکہ اشیا جمع کرتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حجاج کےزیر استعمال بعض اشیا بہت پرانی ہیں۔ ان میں سے بعض 70 سال اور بعض 145 سال پرانی ہیں۔ ان میں پانی کے برتن، پانی کے مشکیزے، لکڑی سی بنی چیزیں، گھڑیاں، چمڑے کا سامان اور دیگر اشیا شامل ہیں۔
السھلی نے مزید کہا کہ میرے پاس بہت سے نمونے ہیں جو حجاج کے قافلوں میں اونٹوں کی پیٹھ پر استعمال ہوتے تھے۔ ان میں شداد اور مراکیع جیسے آلات بھی ہیں جو پرانے دور میں مکہ مکرمہ اور مسجد حرام کی سمت معملوم کرنے اور ستاروں کی سمت کا پتا چلانے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ عجائب گھر میں کچھ رومال موجود ہیں جو حجاج اور معتمرین کرام کو تحفے میں دیئے گئے تھے۔ ان میں وہ رومال جو شاہ خالد، شاہ فیصل اور شاہ سعود کے دور میں سر پر رکھے گئے تھے۔ ان پر مقدس مقامات کا نقشہ تیار کیا گیا۔