لیبیا:حریف امیدواردستبردار،فتحی باشاغا نئے عبوری وزیراعظم قرار
جنگ زدہ ملک ایک مرتبہ پھر دو حکومتوں کے درمیان تقسیم ہونے اورنئے تنازع کاخدشہ
لیبیا کی پارلیمنٹ کے ترجمان نے جمعرات کو حریف امیدوار کے دستبردار ہونے کے بعد فتحی باشاغا کو نیا عبوری وزیراعظم قراردے دیا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایوان میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے رائے شماری میں ان کے حق میں کتنے ارکان نے ووٹ ڈالا ہے۔
دوسری جانب موجودہ وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ نے کہا ہے کہ وہ پارلیمان کی جانب سے خودکو ہٹانے کی کوشش کو تسلیم نہیں کرتے، ان کی حکومت درست اورجائز ہے۔وہ عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔
پارلیمان نے عبدالحمید الدبیبہ کے وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑنے سے انکار کے باوجود سابق وزیرداخلہ فتی باشاغاکو نئی حکومت کا سربراہ منتخب کرنے کے لیے متفقہ رائے دی ہے جس سے ایک مرتبہ پھرملک کے دوحکومتوں کے درمیان تقسیم ہونےاور نئے تنازع کا دروازہ کھل گیا ہے۔
قانون سا کونسل کے ترجمان عبداللہ بلیحق نے صحافیوں کو بتایا کہ ایوان نمائندگان نے’’متفقہ طور پر حکومت کے سربراہ جناب فتحی باشاغا کو اعتماد کا ووٹ دیا ہے‘‘۔
لیبیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکرعقیلہ صالح نے کہا کہ نئے وزیر اعظم کافیصلہ سابق وزیرداخلہ باشاغا کے حق میں سپریم کونسل آف اسٹیٹ کی سفارش اور دوسرے امیدوار خالدالبیباص کی دستبرداری کے بعد کیا گیا ہے۔
فتحی باشاغا 2018 سے 2021ء تک قومی مفاہمت کی حکومت میں وزیرداخلہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔وہ لیبیا کے مغربی علاقے میں سیاسی اور فوجی طور پرایک بڑانام ہیں کیونکہ انھیں مشرق اورجنوب کی حمایت حاصل ہے اور وہ اتفاق رائے کے امیدوار قراردیے جاتے ہیں ۔ان کے قاہرہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔مصری دارالحکومت کا انھوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ اور مغربی ممالک کے دارالحکومتوں کے ساتھ دورہ کیا ہے۔
لیکن باشاغا موجودہ وزیراعظم عبدالحمیدالدبیبہ کے ساتھ ایک بارپھرتصادم کا شکار ہوں گے۔وہ بدستور اپنے عہدے پر فائز ہیں اور منتخب حکومت کے علاوہ کسی اور کو اقتدار سونپنے سے انکارکرتے ہیں جس سے ایک مرتبہ پھرملک میں سیاسی تقسیم اوراقتدار کی کشمکش کا امکان بڑھ گیا ہے۔
اس سے قبل پارلیمان کے اسپیکر نے آئینی اعلامیے کی مکمل اکثریت سے منظوری کا اعلان کیا تھا۔عقیلہ صالح نے ایک نشریے میں کہا کہ اس اعلامیے کے تحت ملک کے تین اہم جغرافیائی علاقوں کی نمائندگی کرنے والے 24 ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور پارلیمنٹ اور ریاست کی جانب سے سپریم کونسل میں نصف نصف ارکان کو نامزد کیا جائے گا۔
اس سے قبل لیبیا کے سرکاری ٹیلی ویژن نے خبردی تھی کہ کونسل آف اسٹیٹ نے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے پارلیمان کا اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اجلاس اگلے ہفتے کے آخر تک ملتوی کردیا جائے۔