سعودی عرب میں کووِڈ-19 کےیومیہ کیسوں کی تعداد میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور وزارت صحت نے 19 فروری کو997 نئے کیسوں اور وائرس کا شکار ایک شخص کی موت کی اطلاع دی ہے۔
سعودی عرب میں یکم جنوری 2022 کے بعد پہلی مرتبہ کروناوائرس کے تشخیص شدہ کیسوں کی تعداد1000 سے کم رہی ہے۔19 جنوری کو سعودی عرب میں وبا کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ5,928 کیس ریکارڈ کیے گئے تھے۔اس کے بعد سے یومیہ کیسوں کی تعداد میں مسلسل کمی آئی ہے۔
سعودی عرب نے دسمبر کےاوائل میں اب تک وائرس کی سب سے متعدی قسم اومیکرون کے پہلے کیس کی اطلاع دی تھی۔اس کے بعد گذشتہ قریباً ڈھائی ماہ کے دوران میں کیسوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا تھا۔
وبا کے آغاز سے اب تک مملکت میں کووِڈ-19 کے مجموعی طورپر738,331 کیسوں کی تشخیص ہوچکی ہے اوراس مہلک وائرس سے 8,982 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹے میں مزید 1928 مریض صحت یاب ہوگئے ہیں جس سے شفایاب ہونے والے کیسوں کی مجموعی تعداد 709420 ہو گئی ہے۔
سعودی عرب میں حکام شہریوں اور مکینوں کو ویکسین لگانے کاپروگرام بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس مہم کے آغازاب تک ویکسین کی کل 60,163,547 خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔
احتیاطی تدابیر
سعودی عرب میں حکام وائرس سے صحت یاب ہونے کے فوری بعدلوگوں کو ویکسین کی تیسری تقویتی خوراک لگا رہے ہیں۔
وزارت داخلہ نے بیرون ملک سفرکرنے والے شہریوں پر بھی تیسری خوراک لگوانے کی پابندی عاید کی ہے۔تیسری تقویتی خوراک ان تمام لوگوں کے لیے دستیاب ہےجنھیں دوسری خوراک لگوائے تین ماہ گزرچکے ہیں۔البتہ سولہ سال سے کم عمرلڑکے،لڑکیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔نیز ایسے افراد کا کرونا وائرس کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت نہیں ہونا چاہیے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اسی طرح جو لوگ توکلنا ایپ میں استثنا کے زمرے میں نظرآتے ہیں،انھیں بھی بیرون ملک سفر کے لیے ویکسین کی تیسری خوراک لگوانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
سعودی حکومت نے کروناوائرس کی رابطہ ایپ ’’توکلنا‘‘میں مدافعتی حیثیت ظاہرہونے کے لیے 18سال سے زیادہ عمرکے ایسے تمام افراد کواضافی تقویتی خوراک (بوسٹر شاٹ)لگوانالازمی قراردیا ہے جنھیں آٹھ ماہ سے زیادہ عرصہ قبل ویکسین کی دوسری خوراک لگائی گئی تھی۔
تمام شہریوں اور مکینوں کی توکلنا ایپ پر’’مدافعتی‘‘حیثیت ظاہرہونی چاہیے اور ایسے افراد ہی کوتقریبات میں شرکت ، سرکاری عمارتوں میں داخل ہونے اور طیارے یا پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کرنے کی اجازت ہے۔جو لوگ پہلے ہی ویکسین لگوانے سے مستثنیٰ تھے،انھیں اب بوسٹر شاٹس لگوانے کی ضرورت نہیں۔