روس اور یوکرین

یوکرینی مذاکرات کار قتل، کیف کا ماسکو پر الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ذرائع ابلاغ کی جانب سے روس کے ساتھ یوکرین کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن کی ہلاکت کی اطلاع کے بعد، یوکرینی حکام نے ان معلومات کی تصدیق کی ہے۔

ہفتے کے روز ایک بیان میں یوکرینی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن سمیت اپنے 3 ملازمین کے قتل کا اعلان کیا۔ کیف نے قتل کے ان واقعات کا الزام ماسکو پر عاید کیا ہے۔

جلد ہی مذاکرات کا تیسرا دور ہو گا

یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی جب تنازع کے دونوں فریق روسی یوکرینی مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام کے بعد مذاکرات کے تیسرے دور کی تیاری کر رہے ہیں۔

یوکرین کی حکمران جماعت کے رہ نما نے اعلان کیا ہے کہ روس کے ساتھ مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ پیر کو ہوگا۔

یوکرین کے صدارتی مشیر اولیکسی ارستووچ نے جمعے کو ایک ویڈیو ریکارڈنگ میں کہا کہ ان کا ملک روس کے ساتھ کسی بھی بات چیت کے وقت یا مقام کی پیشگی تفصیلات شیئر نہیں کرے گا۔

تاہم بعد میں یوکرینی ایوان صدر نے واضح کیا کہ مذاکرات کا نیا دور ہفتے کے آخر میں ہوگا۔

یہ بیانات یوکرین کے صدر کے مشیر میخائیلو پوڈولک کے جمعرات کی شام اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ دوسرا دور بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر کہا کہ مذاکرات کا راؤنڈ ختم ہو گیا ہے لیکن بدقسمتی سے یوکرین نے ابھی تک وہ نتائج حاصل نہیں کیے ہیں جن کی اسے ضرورت ہے۔۔ ہمیں فوری طور پرانسانی ہمدری کی بنیا پر راہ داریوں کو کھولنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب یوکرین کے ساتھ مذاکرات کرنے والے روسی وفد کے سربراہ ولادیمیر میڈنسکی نے کہا کہ روس اور یوکرین متعدد نکات پر مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی وزارت دفاع نے شہریوں کے انخلاء کے لیے راہداری بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

کل روسی وفد نے تین فائلیں پیش کیں جن میں "فوجی، تکنیکی، انسانی، بین الاقوامی اور سیاسی"امور شامل ہیں میڈنسکی نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں