سعودی عرب میں فرقہ وارانہ تنوع کا استحکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

سعودی عرب میں سنی اور شیعہ دو بڑے فرقے ہیں۔ اہل سنت میں مزید چار فرقے ہیں اور شیعوں کے بھی مختلف فرقے ہیں۔ وہ متعدد قانونی اور شرعی اداروں میں اپنی اپنی نمائندگی کرتے ہیں۔ کوئی شخص ان میں سے کسی ایک فرقے کو فروغ نہیں دے سکتا۔ سعودی عرب میں مذہب کو دیکھنے کا واحد راستہ یہی فرقے ہیں۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے اٹلانٹک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے یہی بات کی۔ سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے یہ انٹرویو 3 مارچ کو عربی میں شائع کیا۔

جس بے تکلفی کے ساتھ شہزادہ محمد بن سلمان نے گفتگو کی جس کا مقصد سعودی عرب میں فرقہ وارانہ تنع کو مضبوط کرنا، مملکت کو اس کے مختلف سماجی اجزاء کے لیے ایک وطن کے طور پر پیش کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "شہریت" ریاست کی تعمیر کے لیے بنیادی عمارت ہے۔ مختلف شہری بلا تفریق اسلامی فرقہ منتخب کرنے کا حق رکھتے ہیں ان کے حقوق اور فرائض ہیں اور وہ اس میں برابر ہیں۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان

جب شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے 1932 میں تیسری سعودی ریاست کے قیام اور جزیرہ نما عرب کے اتحاد کا اعلان کیا تو وہ جانتے تھے کہ ان کی ریاست متعدد ثقافتوں، قبیلوں اور فرقوں کا مسکن ہے۔ یہ قوتیں ریاستی طاقت کے عناصر میں سے ہیں۔ ان تمام اجزاء کے درمیان پرامن بقائے باہمی کو برقرار رکھنا اور ان کے درمیان تعاون کرنا ہے۔ یہ سب مل کر اتحاد کی علامت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعمیراتی بلاک "سیاسی" ایکٹ تھا، نہ کہ "مذہبی" عمل۔ ریاست نے ایک سیاسی وژن پر تعمیر کیا جس کا مقصد ترقی، سلامتی اور استحکام تھا۔

موجودہ تنوع!

سنہ 2015 میں المسبار سنٹر فار ریسرچ اینڈ اسٹڈیز نے اپنی ماہانہ کتاب نمبر 107 جاری کی جس کے لیے "خلیج اور اس کے پڑوس میں تنوع، حقیقت اور امکانات۔" کا عنوان دیا گیا۔ میں نے سعودی عرب میں فرقہ وارانہ تنوع پر ایک مطالعہ میں حصہ لیا جس کا نام ہے "تنوع وہ نہیں جسے آپ دیکھ رہے ہیں‘۔ میں نے اس مطالعے میں بتایا کہ سخت گیر علما کے ایک بڑے طبقے نے مملکت کو ایک سلفی ریاست کی تصویر میں پیش کرنے کی کوشش کی، جس کی سلفیت کو کسی دوسرے نظریاتی یا فکری نقطہ نظر کی توہین نہیں کرنی چاہیے، جس میں یہ علماء شریعت کی خلاف ورزی اور بدعت اور مذہب سے انحراف تلاش کریں۔ دقیانوسی تصور زیادہ منفی ہے۔ ایک ایسا پردہ ڈالنا جو ایک ایسے معاشرے کے اندر کسی بھی تنوع کو دیکھنے سے روکتا ہے جو اس کی پوری تاریخ میں نہیں۔

سعودی فرد عمومی خصوصیات رکھتا ہے اپنی قومی شناخت بناتا ہے اور ساتھ ہی اس کی ایک ذیلی شناخت بھی ہے جو اس کے سماجی، فرقہ وارانہ، علاقائی اور خاندانی تعارف ہے۔ یہ تنوع وہی ہے جسے "مملکت وژن 2030" طاقت کے عنصر کے طور پر دیکھتا ہے۔ وہ اس تکثیریت کو کشش کے عنصر میں تبدیل کرنا چاہتا ہے کیونکہ سعودی عرب ایک بڑی عرب اسلامی ریاست ہے جو مختلف مذاہب، فرقوں اور ثقافتوں کے لیےہے۔ اس طرح ایک ایسا منصوبہ چلا رہا ہے جو فرقہ وارانہ گفتگو اور انتہا پسندی اور دہشت گردی کے نظریات کو مسترد کرتا ہے۔

الملك عبد العزيز بن عبدالرحمن بن فيصل آل سعود
الملك عبد العزيز بن عبدالرحمن بن فيصل آل سعود

مذہبی تنوع!

سعودی عرب میں مختلف اسلامی فرقوں کا ایک نقشہ جس کا ذکر اوپر بیان کردہ "مطالعہ" کے ذریعے تفصیل سے کیا گیا ہے۔ اس کا خلاصہ اس طرح کیا جا سکتا ہے:

مرکزی خطہ جہاں دارالحکومت ریاض اور بڑے شہر بریدہ، عنیزہ، زلفی اور دیگرحنبلی مکتبہ فکر کے مقلدین کی اکثریت کے حامل ہیں جو امام احمد بن حنبل مکتب سے وابستہ ہیں۔ خاص طور پر شیخ الاسلام کے تیار کردہ اس ورژن میں تقی الدین احمد بن تیمیہ اور بعد میں شیخ محمد بن عبد الوہاب غالب ہیں۔

اس علاقے میں ایک حنبلی علمی وزن بھی شامل ہے۔ جہاں کئی بااثر علمی شخصیات جیسے شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ، شیخ عبدالعزیز بن باز، الشیخ محمد بن صالح بن عثیمین اور دیگر شامل ہیں۔

الشيخ عبد العزيز بن باز
الشيخ عبد العزيز بن باز

تاریخی طور پر مرکزی خطہ بہت سے "شیعہ" خاندانوں کا گھر بھی تھا جن میں سے کچھ گھر اب تک ریاض میں ہی رہے ہیں جب کہ دیگر سنی فرقے میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے اپنی فرقہ وارانہ شناخت کو عقائد کے طریقوں کے درمیان جوڑ دیا ہے اور سنی اور شیعہ ثقافتوں کی رسومات کو ختم کردیا۔

مغربی خطہ تاریخی طور پر "حجاز" کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس میں جدہ اور ینبع جیسے شہروں کے علاوہ مکہ اور مدینہ کی دو مقدس مساجد بھی شامل ہیں۔ وہاں کے باشندے کئی فرقوں کی پیروی کرتے ہیں لیکن ان میں سب سے نمایاں مالکی اور شافعی فرقے ہیں۔ بہت سے صوفی سلسلوں کے لوگ بھی تھے۔ گذشتہ صدی میں مملکت میں ان کی کئی درگاہیں تھیں مگر انہیں ختم کر دیا گیا اوران کی پیروی کرنے والے گھروں کے اندر تقریبات تک محدود ہوگئے۔

اثنیٰ عشری شیعہ فرقہ حجاز میں بھی موجود ہیں خاص طور پر مدینہ کے ساتھ ساتھ جدہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔

حجاز کے ممتاز مالکی علماء میں الشیخ علوی عباس المالکی اور محمد علوی المالکی ہیں۔ جہاں تک شافعیوں کا تعلق ہے تو ان کے گھر سب سے مشہور شافعی گھرانوں میں الزواوی، بابصیل، یمانی، السادہ اور المراغنہ شامل ہیں۔ ان کے دو ممتاز علما الشیخ محمد سعید یمانی اور محمد حسن یمانی ملک گیر شہرت رکھتے ہیں۔ جب کہ الشیخ یاسین فادن ایک محدث ہیں۔ وہ معاصر فقہی علما میں حدیث اور فقہ پر گہری بصیرت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب میں شافعی مسلک کے لوگ ریاست میں کلیدی عہدوں پر بھی فائز ہوئے۔ سابق وزیر پٹرولیم احمد زکی یمانی، ڈاکٹر عمر کامل اور ڈاکٹر عبداللہ فراج الشریف سب شافعی مسلک کے پیروکار ہیں۔

السید علوی المالکی
السید علوی المالکی

دریں اثنا الشیخ محمد علی العمری 2011 میں اپنی وفات سے قبل مدینہ منورہ میں سب سے نمایاں شیعہ نام تصور کیے جاتے ہیں۔

حجاز بالخصوص مکہ مکرمہ میں حنفی مسلک کے پیروکاروں کی بھی بڑی تعداد ہے۔ الشیخ عبداللہ بن عبدالرحمن سراج کا تعلق حنفی مکتب سے تھا اور وہ نامور حنفی عالم دین تھے۔کیونکہ وہ 1848 میں اپنی وفات سے پہلے حنفیوں کے مفتی اعظم اور مکہ کے قاضی القضاۃ فقہ میں ایک حوالہ تھے۔

مشرقی صوبہ جس میں الاحساء، القطیف، دمام، ظہران، الخبر عوامیہ، سیھات، صفوایٰ اور قطیف گورنریٹ کے باقی دیہاتوں میں اثنیٰ عشری شیعہ مسلک کی اکثریت ہے قطیف گورنری کے شہری، خاص طور پر عنک، الزور، دارین اور النابیہ اہل تشیع کا گڑھ ہیں۔

الاحساء کو فرقہ وارانہ تنوع اور مختلف سعودی مسالک کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی ایک مثال سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں شیعہ اور سنی دونوں شہری شامل ہیں۔

مشرقی علاقے میں بہت سے شیعہ علما اور ان کے پیروکار رہے ہیں۔ ان علاقوں میں سرکردہ شیعہ علما میں الشیخ علی ابو عبدالکریم الخنازی الشیخ عبدالحمید الخطی، شیخ عبدالہادی الفضلی، سید ماجد العوامی، شیخ محمد الہجری، الشیخ حسین العمران اور علی سلمان جیسے سرکردہ علما میں شامل ہیں۔

الشيخ عبد الحميد الخطي
الشيخ عبد الحميد الخطي

الاحساء میں "المبارک" خاندان میں مالکی کے علماء کی بہت سی علامتیں شامل ہیں جن میں الشیخ عبدالحمید المبارک اور قیس المبارک شامل ہیں۔

الاحسا میں شافعی مسلک کے بھی پیروکار موجود ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ہفوف اور المبرز شہروں میں مقیم ہیں۔ الشیخ احمد بن عبداللہ الدوغان جن کا اکتوبر 2013 میں انتقال ہوا کا شمار سب سے نمایاں شافعی مذہبی رہ نماؤں میں ہوتا تھا۔

الشيخ قيس آل الشيخ مبارك
الشيخ قيس آل الشيخ مبارك

الاحسا میں "ملا" خاندان حنفی گھرانوں میں سے ایک ہے جس کے بہت سے ارکان تاریخی طور پر حنفی مکتب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیات میں شیخ ابوبکر بن عمر الملا اور ان کا بیٹا عبداللہ بھی شامل ہیں۔

جنوبی علاقے جس میں نجران، جازان، عسیر اور دیگر بکھرے ہوئے شہر اور دیہات شامل ہیں۔ اس خطے میں فرقے قبیلوں کے ساتھ ملا ہوئے ہیں۔ جہاں اول الذکر ایک بڑے اور فعال جزو کے طور پر موجود ہے۔

یام قبیلہ نجران میں رہتا ہے جس کے بہت سے ارکان اسماعیلی شیعہ فرقے کی پیروی کرتے ہیں۔

الشیخ عبداللہ بن محمد المکرمی جن کا انتقال اپریل 2015 میں ہوا مملکت میں اسماعیلی فرقے کےسب سے نمایاں قبائلی اور فرقہ پرست رہ نماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں