روس اور یوکرین

جنگ میں زخمی یوکرین کی حاملہ خاتون کی تصویر نے عالمی ضمیر ہلا کر رکھ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس کی جانب سے پڑوسی ملک یوکرین پر چڑھائی کے بعد جن کی ہولناکیوں کے مناظر سامنے آ رہے ہیں۔

جنگی تباہ کاریوں کی ایک تازہ مثال یوکرین کے شہر ماریو پول کےایک اسپتال پر ہونے والی بمباری کے بعد سامنے آئی جب اسپتال میں داخل حاملہ خاتون کو زخمی حالت میں اسپتال سے باہر نکالا گیا۔ خاتون نے جمعہ کو اسی حالت میں بچی کو جنم دیا۔ نوزائیدہ بچی کا نام پرونیکا رکھا گیا ہے۔

ولادت کے موقع پر ماریانا ویشگرسکایا کو روسی فضائی حملے کے بعد اسپتال سے بھاگنا پڑا جس کے بعد روسی میڈیا نے حاملہ خاتون پر الزام لگایا کہ خاتون اداکارہ تھیں اور حاملہ نہیں تھیں۔ تاہم روسی میڈیا کے ان تمام الزامات کو اس وقت چھوٹ قرار دیا گیا جب خاتون کو اسٹریچر پر ایمبولینس میں رکھنے کی تصاویر سامنے آئیں۔ اس کے علاوہ ایک تصویر میں خاتون کو وہیل چیئر پربیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔

چہرے پر خون کے دھبے اور زخموں کے نشان

خاتون دھماکے سے بچ گئی تاہم وہ دھماکے میں زخمی ہوگئی تھی۔ اس کے ماتھے اور گال پر خون جم گیا۔ اس نے اپنا سامان پلاسٹک کے تھیلے میں بند کیا اور ملبے سے اٹی اسپتال کی سیڑھیاں اتر کر باہر نکلی۔ یہ واقعہ گذشتہ بدھ کو پیش آیا۔

اسپتال پر روسی فوج کی وحشیانہ بمباری اور اس کے بعد اسپتال میں زیر علاج بچوں اور خواتین کے مناظر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

ویشگرسکایا کو ایک اور خاتون کے ساتھ اسپتال لے جایا گیا۔ دوسری خاتون بھی حاملہ تھیں۔ دونوں نے بمباری کی آوازوں میں بچوں کو جنم دیا۔ انہیں جس دوسرے اسپتال لے جایا گیا تھا وہاں بھی روسی فوج نےبمباری کی۔

عالمی سطح پر اسپتال پر بمباری کی مذمت کے بعد روس نے دعویٰ کیا کہ اسپتال کو انتہائی دائیں بازو کی یوکرینی افواج نے اڈے کے طور پر استعمال کرنے کے لیے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

لندن میں روسی سفارتخانے کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا کہ وہ خاتون حملہ اور زخمی نہیں بلکہ ایک بلاگر اور ماڈل تھیں جو حاملہ ہونے کا ڈرامہ کررہی تھیں۔

فاکس نیوز کے مطابق یوکرینی خاتون اصل میں ایک یوکرینی بلاگر ہے جو ہمیشہ جلد کی دیکھ بھال، میک اپ اور کاسمیٹکس کے بارے میں ویڈیوز جاری کرتی ہے۔

ماریوپول میں ایسوسی ایٹڈ پریس کے نامہ نگاروں نے جنہوں نے ویڈیو اور تصاویر جاری کی ہیں نے خود براہ راست اسپتال میں بمباری سے ہلاکتیں اور نقصانات دیکھے۔ان کا کہنا تھا کہ روسی فوج کا یہ دعویٰ بےبنیاد ہےکہ اسپتال کو فوجی اڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ وہاں ایسی کوئی چیز دکھائی نہیں دی۔

ٹویٹر نے روسی سفارت خانے سے ٹویٹس کو ہٹا دیا اور موجودہ لنکس کو نوٹس میں بھیج دیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ پوسٹس ٹویٹر کے قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں.

اس معاملے نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کروائی، جہاں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا نے جمعے کے روز ایک میٹنگ کے دوران ایسوسی ایٹڈ پریس کی تصاویر کی کاپیاں اپ لوڈ کیں جبکہ وِشگرسکایا کی شناخت اور حملے کے بارے میں جھوٹ کو دہرایا۔

لیکن امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے سچائی ظاہر کرنے پر میڈیا کی تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس ایسوسی ایٹڈ پریس کے نیوز فوٹوگرافروں کے کام کو چھپا نہیں سکتا۔

بم دھماکے کے بعد، ویشگرسکایا کو شہر کے مضافات میں ایک اور اسپتال منتقل کیا گیا اور ایک ہفتے سے زائد عرصے سے خوراک، پانی، بجلی اور حرارتی نظام سے محروم شہر میں آپریشن تھیٹر میں بچی کو جنم دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں