روس اور یوکرین

چینی عہدہ دار نے روس کے خلاف مغرب کی پابندیوں کو’شرم ناک‘ قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چینی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین جنگ کے ردعمل میں روس کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کو ’’شرم ناک‘‘ قرار دے دیا ہے۔

چین کے نائب وزیرخارجہ لی یوچینگ نے نیٹو کے بارے میں ماسکو کے نقطہ نظر کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد کو مشرق کی طرف مزید توسیع نہیں کرنی چاہیے جس کی وجہ سے روس جیسی جوہری طاقت’دیوار‘ سےلگنے پرمجبورہوجائے گی۔

چین نے ابھی تک یوکرین میں روس کے اقدام کی مذمت نہیں کی ہے یا اسے حملہ آورقرارنہیں دیا ہے۔البتہ اس نے جنگ کے بارے میں گہری تشویش کا اظہارکیا ہے۔

بیجنگ نے یوکرین پر حملے کے ردعمل میں روس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی بھی مخالفت کی ہے۔ان کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ یک طرفہ ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان کی منظوری نہیں دی ہے۔

لی نے بیجنگ میں منعقدہ سکیورٹی فورم میں کہا کہ روس کے خلاف پابندیاں زیادہ سے زیادہ شرم ناک ہوتی جا رہی ہیں اوعروسی شہریوں کو بغیر کسی وجہ کے بیرون ملک اثاثوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تاریخ نے بار بار ثابت کیا ہے کہ پابندیاں مسائل کا حل نہیں ہوسکتیں۔پابندیوں سے صرف عام لوگوں کو نقصان پہنچے گا،معاشی اور مالیاتی نظام پراثر پڑے گا۔ اور یہ عالمی معیشت ہی کو ابتراورخراب کریں گی۔

روس یوکرین میں اپنے اقدامات کو ایک ’’خصوصی آپریشن‘‘قراردیتا ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے پڑوسی ملک کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کرنے اور خطرناک قوم پرستوں کو پکڑنے کے لیے کیا جارہاہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق جمعہ کو جو بائیڈن نے شی جن پنگ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی اور اپنے چینی ہم منصب کو خبردار کیا تھاکہ اگر بیجنگ نے روس کے یوکرین پر حملے کی مادی حمایت کی تو اس کے’’نتائج‘‘برآمد ہوں گے۔

ماسکو نے نیٹواتحاد سے قانونی طورپرپابند ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی توسیع روک دے گا اور اپنی 1997 کی سرحدوں میں واپس چلاجائے گا۔

لی نے کہا کہ مکمل سلامتی کا یہ تعاقب (نیٹو کی طرف سے) بالکل غیرسلامتی کا باعث بنتا ہے۔دنیا کی ایک بڑی طاقت خصوصاً جوہری قوت کو ایک کونے میں زبردستی دھکیلنے کے نتائج اس سے بھی زیادہ ناقابل تصور ہیں۔

صدر ولودی میرزیلنسکی نے رواں ہفتے کہا تھا کہ یوکرین بین الاقوامی سلامتی کی ضمانتوں کو قبول کر سکتا ہے اور وہ نیٹو میں شمولیت کے اپنے دیرینہ مقصد سے دستبردار ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں