جوہری ایران

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپسی عن قریب اور یقینی نہیں : واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا نے گذشتہ روز پیر کو اعلان کیا کہ وہ تہران کے ساتھ ایرانی جوہری سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے "مشکل فیصلے کرنے کے لیے تیار ہے"۔ تاہم ساتھ ہی واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ مذکورہ سمجھوتے کا طے پانا "عن قریب اور یقینی نہیں ہے"۔ مزید یہ کہ امریکا مذاکرات کے کامیاب یا ناکام ہونے کے امکان کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

ادھر فرانس نے ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کی "اشد ضرورت" پر زور دیا ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دے۔ فرانس کے مطابق امریکا کے اس معاہدے سے علاحدہ ہونے کے بعد سے ایرانی جوہری پروگرام میں بڑی پیش رفت کو یقینی بنایا گیا ہے۔

ویانا میں جاری جوہری مذاکرات سے مطلع ذرائع کے مطابق معلق امور میں ایک اہم ترین معاملہ تہران کی جانب سے یہ اصرار ہے کہ واشنگٹن غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں سے متعلق امریکی بلیک لسٹ میں سے ایرانی پاسداران انقلاب کا نام خارج کرے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ "ہم ایرانی جوہری پروگرام کو اس کی حدود میں واپس لانے کے لیے مشکل فیصلے کرنے پر تیار ہیں"۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2019ء میں ایرانی پاسداران انقلاب تنظیم کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ مئی 2018ء میں ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے امریکا کے علاحدہ ہونے کے یک طرفہ فیصلے کے بعد سامنے آیا تھا۔ ٹرمپ کی جگہ صدر بننے والے ڈیموکریٹک رہ نما جو بائیڈن نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ جوہری معاہدے میں واپسی چاہتے ہیں بشرط یہ کہ تہران معاہدے کی مکمل پاسداری کی طرف لوٹ آئے۔

فریقین نے اپریل 2021ء میں ویانا میں بالواسطہ مذاکرات شروع کیے تھے تا کہ جوہری معاہدے کو دوبارہ سے فعال کیا جا سکے۔ مذاکرات میں وہ ممالک بھی شامل تھے جو ابھی تک معاہدے کا حصہ ہیں۔ یہ ممالک فرانس ، برطانیہ ، جرمنی ، روس اور چین ہیں۔

نیڈ پرائس نے پیر کے روز بتایا کہ "حالیہ ہفتوں میں مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ کسی بھی سمجھوتے تک پہنچنا نہ تو قریب ہے اور نہ یقینی"۔

ترجمان کے مطابق امریکا اسی طرح ہر منظر نامے کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔ پرائس نے کہا کہ "صدر جو بائیڈن یہ عزم کر چکے ہیں کہ جب تک وہ اقتدار میں ہیں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے۔ یہ ایک حقیقی اور مضبوط پاسداری ہے خواہ معاہدہ ہو یا نہ ہو"۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلینکن کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت میں فرانس کے وزیر خارجہ جان ایف لودراں نے اس بات کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے کہ ویانا معاہدے کے حوالے سے بات چیت بنا تاخیر مکمل کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں