انڈونیشیا میں پروگرامرکی قسمت چمک اٹھی، دولت میں10 ہزار فیصد اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سابق کروڑ پتی ہونے کے باوجود انڈونیشیا کے کاروباری، اوٹو ٹوٹو سوجیری نے اپنی زندگی کا موقع ایک ہی شرط سے حاصل کر لیا اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہو گئے۔

یہ واقعہ سال 2011 کا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب انڈونیشیا میں انٹرنیٹ کا استعمال پہلے سے ہی عروج پر تھا جب حکومت نے ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک قانون نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے لیے ضروری ہے کہ معلومات کو بیرون ملک نہیں بلکہ انڈونیشیا میں آن لائن اسٹور کیا جائے۔دوسرے الفاظ میں مقامی ڈیٹا سینٹرز کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔

سوجیری نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور 6 شراکت داروں کے ساتھ PT DCI انڈونیشیا کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اب یہ کمپنی جو 200 سے زیادہ کلائنٹس کے ساتھ اس شعبے میں ملک کی رہنما بن چکی ہے۔

گذشتہ سال اس کی لسٹنگ کے بعد سے DCI کے حصص میں 10,000 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے، جس سے 68 سالہ سوجیری ایک کروڑ پتی سے دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہوگئے۔ بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذریعے جائزہ لیا گیا۔ ان کی دولت کا تخمینہ 2.5 ارب ڈالر ہے۔

سوجیری DCI کے 30 فی صد حصص کے مالک ہیں، جب کہ شریک بانی ہان آرمنگ حنفیہ اور مرینا بوڈمین بالترتیب 1 ارب اور 1.6 چھ ارب ڈالر کے حصص کے مالک ہیں جب کہ انڈونیشیا کے ارب پتی انٹنی سیلم، جن کی سلطنت خوراک سے لے کر ٹیلی کمیونیکیشن اور رئیل اسٹیٹ تک پھیلی ہوئی ہے چوتھے بڑے شیئر ہولڈر ہیں اور DCI میں ان کے 11 حصص ہیں۔

سوجیری نے بیلجیئم اور ڈچ کی سرحد کے قریب واقع شہر آچن کی ایک ممتاز یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد جرمنی میں ایک آئی ٹی پروگرامر کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ پھر وہ 1980 کی دہائی میں انڈونیشیا واپس آئے اور اپنے خاندان کے بینک میں شامل ہونے سے پہلے مقامی کمپنیوں کے لیے کچھ پروگرامنگ کی۔

بینک میں 6 سال گزارنے کے بعد سوجیری نے پی ٹی سگما سیپٹا کاراکا کی سربراہی کے لیے چھوڑ دیا بنک کی ملازمت کو خیر آباد کہہ دیا۔ وہ سافٹ ویئر کمپنی ہے جسے PT ٹیلی کام انڈونیشیا نے 2007 میں حاصل کیا تھا جس سے زبردست منافع ہوا۔

1994 میں اس نے PT Indointernet کی بنیاد رکھی جو انڈونیشیا میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والا پہلا ادارہ ہے اور اب بھی اس کا 17 فی صد وہی مالک ہیں۔ اس نے 20 سے زائد کمپنیاں قائم کیں۔

ڈی سی آئی نے انڈونیشیا میں ڈیجیٹل تبدیلی سے فائدہ اٹھایا ہے۔ ملک کی آبادی 20 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ ہے اور بڑی تعداد میں لوگ آن لائن کاروبار سے منسلک ہیں۔ گذشتہ برس انڈونیشیا نے آن لائن کاروبار سے 70 ارب ڈالر تک کمائے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں