روس اور یوکرین

روسی صدرنے بوچا میں تعینات فوجیوں کو’بہادراور جرآت مند‘ قراردے دیا،یوکرین کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس کے صدر ولادی میرپوتین نے یوکرین میں شہریوں کے خلاف روسی فوجیوں کے وحشیانہ جنگی جرائم پرعالمی سطح پرشوروغوغا کے باوجود کیف کے نواح میں واقع شہربوچا میں تعینات بریگیڈ کو ان کی ’’بہادری اور جرآت‘‘ پر ’’گارڈز‘‘کے خطاب سے نوازا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے تاس کی رپورٹ کے مطابق پوتین نے کہا:’’یہ ایک اعلیٰ اعزازاور اعتراف ہے اور یہ وطن کے دفاع، روس کی خودمختاری اور قومی مفادات کو برقرار رکھنے میں دکھائی گئی خصوصی خوبیوں، بڑے پیمانے پر بہادری اور جرآت کا بھی اعتراف ہے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا: ’’یوکرین میں خصوصی فوجی آپریشن کے دوران میں یونٹ کے اہل کاروں کی پیشہ ورانہ لگن اور پرعزم اقدامات فوجی فرض شناسی، ہمت، بے خودی اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کی ایک مثال ہیں‘‘۔ انھوں نے ان فوجیوں کی ’’صحت اورکامیابی‘‘کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

دریں اثنا یوکرین کے صدارتی مشیر میخائل پودولیاک نے ٹویٹرپرکہا: "اگرچہ کوئی اس بات پر بحث کر رہا ہے کہ آیا یوکرین میں روس کے جرائم کو نسل کشی کہا جا سکتا ہے یا نہیں، لیکن روس دنیا کے سامنے ہنستا رہتا ہے۔ پوتین نے بوچا میں تعینات بریگیڈ کو اعزازی’گارڈ‘ کا خطاب دیا اور اس طرح بہادری اور جرآت پر انھیں نوازا ہے۔کیا یہ بچّوں کے قتل اور خواتین کی عصمت ریزی پر انھیں اعزاز سے نوازا گیا ہے؟

رواں ماہ کے اوائل میں یوکرینی حکام بوچا شہر میں داخل ہوئے تھے جہاں حکام نے بتایا تھا کہ روسی فورسز کے ہاتھوں 410 سے زیادہ مکین ہلاک ہوئے ہیں۔انھوں نے اجتماعی قبروں کی دریافت کی اطلاع دی اور عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتا دیا اور سڑکوں پر چھوڑی گئی لاشوں کی تصاویر شیئر کیں جن میں سے کچھ کے ہاتھ پیٹھ کے پیچھے بندھے ہوئے تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بوچا میں ہونے والے واقعات پر یوکرینی بیان کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ روسیوں کے ہاتھوں شہریوں کی عصمت ریزی، تشدد اور قتل کی قابل اعتماد اطلاعات ہیں۔

ماسکو نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات کی تردید کی اور دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے مغربی ذرائع ابلاغ کو لبھانے کے لیے ’’اشتعال انگیزی‘‘ کا مظاہرہ کیا ہے۔

یوکرینی صدر ولودیمیرزیلنسکی نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ان کے ملک میں روس کے مظالم کو ’’نسل کشی‘‘قراردیں اور کہا کہ ماسکو نے تو یوکرینیوں کے ساتھ ’’جانوروں سے بھی بدتر‘‘سلوک روارکھا ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے گذشتہ ہفتے کہاتھا کہ یوکرین میں روسیوں کے ہاتھوں شہری ہلاکتیں نسل کشی ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ میں نے اسے نسل کشی کا نام دیا کیونکہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ پوتین صرف یوکرینی ہونے کی بناپرلوگوں کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کے شواہد بڑھتے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں