سعودی عرب اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور خود مختار فلسطینی ریاست کے موقف پر قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب نے باور کرایا ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بنیادی مواقف پر قائم ہے۔ ان مواقف میں اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ، ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے حق کی ضمانت شامل ہے۔

سعودی عرب کا یہ بیان منگل کے روز عالمی سلامتی کونسل کے اجلاس میں (مشیر) محمد بن عبدالعزیز العتیق کی تقریر میں سامنے آیا۔ العتیق اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل وفد کے قائم قام ناظم الامور ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں زور دیا کہ مشرق وسطی میں جامع اور پائیدار امن اس تنازع کے خاتمے کے لیے تزویراتی آپشن ہے۔ اس کی بنیاد بین الاقوامی قرار دادوں اور عرب لیگ کے 2002ء کے منصوبے کے مطابق دو ریاستی حل ہے۔

العتیق نے مزید کہا کہ "رمضان مبارک کے مہینے میں قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر دھاوے اور اس کے دروازے بند کرنے اور نہتے نمازیوں پر حملے کی کارروائیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ مملکت سعودی عرب اس کی شدت سے مذمت کرتی ہے۔ یہ کارروائیاں امت مسلمہ کے جذبات کے خلاف منظم اور کھلی جارحیت اور بین الاقوامی مواقف اور قرار دادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عالمی برادری اور بالخصوص سلامتی کونسل نہتے فلسطینیوں ، ان کی اراضی اور مقدس مقامات کے خلاف جاری ان جرائم کی مکمل ذمے داری قابض اسرائیل پر عائد کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے"۔

العتیق نے گذشتہ ماہ سعودی عرب میں شہریوں اور انفرا اسٹرکچر کے خلاف ایران نواز حوثی ملیشیا کے دہشت گرد حملوں کی مملکت کی طرف سے ایک بار پھر شدید مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنی اراضی ، شہریوں اور ساتھ مقیم غیر ملکیوں کے دفاع کے لیے تمام مطلوبہ اقدامات کا پورا حق رکھتا ہے۔ اس حوالے سے وہ بین الاقوامی قوانین پر کاربند ہے۔ مزید یہ کہ سعودی عرب، یمن میں امن و استحکام کی سپورٹ اور یمنی فریقوں کے بیچ سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

العتیق نے کہا کہ میرا ملک سابق یمنی صدر کی جانب سے اپنے تمام اختیارات صدارتی لیڈرشپ کونسل کو سونپ دینے کا خیر مقدم کرتا ہے اور کونسل کے سربراہ اور ارکان کی کارکردگی کو سراہتا ہے۔ العتیق کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں یمن کے مرکزی بینک کے لیے مشترکہ طور پر 2 ارب ڈالر کی سپورٹ پیش کی۔ اس کے علاوہ مملکت کی جانب سے 1 ارب ڈالر کی رقم دی گئی۔ اس میں 60 کروڑ ڈالر تیل کی مصنوعات خریدنے والے فنڈ کی مد میں اور 40 کروڑ ڈالر ترقیاتی منصوبوں کی مد میں ہیں۔

مزید برآں اقوام متحدہ کی جانب سے 2022ء میں اعلان کردہ انسانی منصوبے کے لیے سعودی عرب نے 30 کروڑ ڈالر پیش کیے۔ اس کا مقصد یمنی عوام کو درپیش انسانی اور معاشی مسائل میں کمی لانا ہے۔ العتیق نے یمن میں جنگ بندی اور فوجی کارروائیوں کو رکوانے کے لیے اقوام متحدہ اور اس کے خصوصی ایلچی کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں