افغانستان وطالبان

خواتین ٹی وی پیش کاروں پربرقع مسلط نہیں کرتےمگرچہرہ ڈھانپنے کو کہا ہے:طالبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان میں تحریک طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے زور دے کر کہا ہے کہ حجاب اور برقع ان کے ملک کی ثقافت کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نے براڈکاسٹروں پر برقع نافذ کیا لیکن ہم خواتین ٹی وی پیش کاروں سےکہتے ہیں کہ وہ اپنا منہ اور ناک ڈھانپیں۔ اس کے لیے محض ماسک کافی ہے مگر پردہ اسلامی شریعت میں لازمی ہے۔

معروف ترین افغان ٹی وی چینلز پر تمام خواتین اناؤنسر اتوار کے روز نقاب پہنے نمودار ہوئیں۔ اُنہوں نے صرف اپنی آنکھیں اور ماتھے کو ظاہر کیا۔ ان میں "طلوع نیوز"، "شمشاد ٹی وی"، "وان ٹی وی" اور "اریانا" چینل شامل ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے "العربیہ" چینل کو دیے ایک انٹرویو میں میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیاں ان کے لیے کھلی ہیں اور حکومت سیکیورٹی نافذ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ طالبات کو اسکولوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

امریکیوں نے افیون کو فروغ دیا

انہوں نے پوست اور افیون کی کاشت کے مسئلے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے افیون کی کاشت کو فروغ دیا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں نوجوانوں کو اس کا عادی بنا دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت نے اس سے نمٹنے کے لیے کام کیا ہے۔ اس کے لیے دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نشےکی لعنت سے نجات دلانے میں ہماری مدد کرے۔

سیاسی محاذ پرطالبان کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور جنگ کے خاتمے کے بعد اس میں سلامتی اور استحکام کے لیے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خاتمے کے بعد اپنے اندرونی وسائل پر انحصار کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے موجودہ حکومت کو تسلیم کرنے اور اس کی مدد کا مطالبہ کی۔

افغانستان کسی کے لیے خطرہ نہیں

افغانستان میں طالبان کے ترجمان نے افغانستان سے بالخصوص امریکا کے خلاف کسی بھی خطرے کو روکنے کے لیے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کیا۔

موجودہ افغان حکومت کی جانب سے سابق حکومت کی شخصیات کو شامل نہ کرنے کی وجہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت میں مختلف طبقات کی شخصیات شامل ہیں۔ طالبان نے "دوحہ معاہدے" میں ملک چھوڑنے والی شخصیات کو شامل کرنے کا عہد نہیں کیا تھا۔ سابق صدر اشرف غنی، ان کے حامی اور دیگر پہلے طالبان کے خلاف لڑتے رہے اور پھر ملک چھوڑ گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں