ایرانی پاسداران کے مقتول کرنل نے حزب اللہ کو جدید ٹکنالوجی منتقل کی : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی دارالحکومت تہران میں اتوار کی سہ پہر پاسداران انقلاب کے ایک افسر کرنل صیاد خدائی کو نامعلوم افراد نے گولیوں کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ کئی مبصرین نے صیاد کی ہلاکت کو دو برس قبل ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کے قتل کے منظر نامے کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ فخری زادہ کو بھی تہران کے نزدیک فائرنگ کر کے موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں تزویراتی امور اور بین الاقوامی امن کے خصوصی تجزیہ کار اور عراقی محقق فراس الیاس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے القدس فورس کے کرنل صیاد خدائی کو شام میں نشانہ بنائے جانے والوں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔ اس کی وجہ صیاد کا ڈرون طیاروں کے پروگرام کو ترقی دینے کے عمل میں سرگرم ہونا تھا۔ گذشتہ عرصے کے دوران ان میں بعض ڈرون طیارے اسرائیل کی جانب بھیجے گئے تھے۔

الیاس کے مطابق ایرانی حکام صیاد کی زندگی کی حفاظت کے لیے اسے بحفاظت تہران واپس لے آئے تھے تاہم موساد کسی بھی طریقے سے اسے ہلاک کرنے کا مصمم ارادہ کر چکا تھا۔

اسرائیلی میڈیا نے باور کرایا ہے کہ صیاد کی ہلاکت کا ایران کے جوہری پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ شام میں تل ابیب اور تہران کے بیچ خاموش جنگ کے تسلسل کا حصہ ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق صیاد بیرون ملک اسرائیلیوں کی ہلاکتوں کی کارروائی میں ملوث رہا۔

بتایا گیا ہے کہ مقتول صیاد خدائی ایرانی پاسداران انقلاب کے "یونٹ 840" کے خفیہ منصوبوں کے ساتھ منسلک تھا۔ اس کا مشن یورپ میں قتل کی سلسلہ وار کارروائیاں انجام دینا تھا۔ ان میں استنبول میں اسرائیلی سفارت کار اور جرمنی میں ایک امریکی جنرل کے علاوہ ایک فرانسیسی صحافی کو نشانہ بنانا شامل تھا۔

ادھر اسرائیلی ٹی وی "چینل 13" کے مطابق صیاد خدائی لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کو جدید میزائل اور ڈرون ٹکنالوجی منتقل کرنے کا ذمے دار تھا۔ تاہم چینل نے اپنی ان معلومات کا ذریعہ نہیں بتایا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقتول کرنل "شام میں مقدس مزارات کا دفاع کرنے والوں میں سے تھا۔ اسے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے تہران کے مشرق میں دہشت گردی کا نشانہ بنا کر قتل کیا"۔

پاسداران نے قتل کی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے موجود عناصر "عالمی گھمنڈی" سے منسلک ہیں۔ تہران یہ اصطلاح امریکا اور اسرائیل کی جانب اشارے کے واسطے استعمال کرتا ہے۔

ادھر ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں نے ایک بار پھر اپنی شرپسند طبیعت ظاہر کر دی اور پاسداران انقلاب کے یک اہم رکن کو موت کی نیند سلا دیا۔

مقتول کرنل صیاد خدائی کی تصاویر گذشتہ روز سوشل میڈیا پر پھیل گئی تھیں۔ وہ اپنی گاڑی کی نشست پر خون میں لت پت پایا گیا جب کہ اس کا سر ایک جانب ڈھلکا ہوا تھا۔

یاد رہے کہ یہ حملہ نومبر 2020ء میں ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کے قتل کے بعد ایرانی سرزمین پر کسی بھی ایرانی شخصیت کو نشانہ بنانے کی نمایاں ترین کارروائی ہے۔ فخری زادہ کی گاڑی پر تہران کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے اندھادھند فائرنگ کر دی تھی۔ ایران نے اس کارروائی کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size