’’ترکی یونان کومشتعل کرنے سے گریزکرے‘‘:انقرہ نے جرمن چانسلرکے بیان کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جرمنی کے چانسلر اولف شُلز نے ترکی پر زوردیا ہے کہ وہ یونان کواشتعال دلانے سے بازرہے۔انقرہ نے ان کے اس بیان کی مذمت کی ہے۔

جرمن حکومت کے ترجمان نے بدھ کے روز کہا:’’چانسلر کی رائے ہے کہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر نیٹو کے تمام اتحادی ایک ساتھ کھڑے ہوں اور آپس میں اشتعال انگیزی سے گریزکریں‘‘۔

ترجمان نے مزید کہا:’’یونان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور یونانی جزائر پرپرواز کرنا ٹھیک نہیں ، یہ کارروائی اتحاد کی روح کے منافی ہے۔ ہم یورپی یونین کے رکن ممالک کی خودمختاری پر سوال اٹھانے کو قبول نہیں کرسکتے‘‘۔

گذشتہ ماہ ایتھنز اورانقرہ نے ایک دوسرے پرلڑاکا طیاروں کے ساتھ فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کےالزامات عاید کیے تھے۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے جرمن چانسلرشُلزکے مذکورہ بیان کی مذمت کی ہے اور کہا کہ انقرہ یونان کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں اپنی خودمختاری کا دفاع جاری رکھے گا۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم جرمن چانسلرکے دفترکی جانب سے ترکی کے خلاف بے بنیاد بیانات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور انھیں مسترد کرتے ہیں اورتوقع کرتے ہیں کہ جرمنی یونان کے حق میں اتحاد کی روح کے منافی متعصبانہ بیان دینے کے بجائے اس کو بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق کام کرنے کی ترغیب دے گا‘‘۔

واضح رہے کہ بحرمتوسط کے مشرقی حصے (مشرقی بحیرہ روم) میں انقرہ کے تیل اور گیس کی تلاش کے منصوبوں کی بنا پر 2020 سے دونوں ہمسایہ اور نیٹو کے اتحادیوں یونان اور ترکی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں