یمن اور حوثی

’’سعودی عرب کی قیادت نے یمن جنگ بندی معاہدے کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں جنگ بندی کے معاہدے کی مدت بڑھانے میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عھد شہزادہ محمد بن سلمان کا اہم کردار ہے۔ اس امر کا اعتراف امریکی وائٹ ہاؤس نے کیا ہے۔

اس سے پہلے امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کے روز اقوام کی وساطت سے یمن تنازعے کے فریقوں کے درمیان جنگ بندی کی مدت بڑھانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔ بائیڈن کے بہ قول سعودی عرب نے جنگ بندی معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کے وقت ’’دلیر قیادت‘‘ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ’’سات برس شروع ہونے والی یمن جنگ کے بعد سے گذشتہ دو مہینوں کے دوران سب سے زیادہ امن وامان رہا ہے‘‘

جو بائیڈن نے بتایا کہ عمان، مصر اور اردن نے جو کردار ادا کیا اسی سے یمن میں جنگ بندی معاہدے کی راہ ہموار ہوئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اس کارروائی میں کئی ہفتے بلکہ مہینوں تک شریک رہے گا اور ہم اپنے دوستوں کو ملنے والی دھمکیوں کے خاتمے پر توجہ دیں گے۔

یمن کے متحارب فریقوں نے جمعرات سے دو ماہ کے لیے جنگ بندی کی تجدید پر اتفاق کیا ہے۔دو مئی (رمضان المبارک) سے جاری جنگ بندی کی مدت آج ہی ختم ہو رہی تھی۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے ایک بیان میں جنگ بندی میں تجدید کا اعلان کیا ہے اورکہا کہ تنازع کے فریقوں نے یمن میں موجودہ جنگ بندی میں اقوام متحدہ کی تجویزپرمزید دوماہ کے لیے اتفاق کیا ہے۔

جنگ بندی میں توسیع کی مدت کا آغاز 2 جون 2022 کو یمن کے وقت کے مطابق 19:00 بجے (1600 جی ایم ٹی) سے ہو گا گرنڈبرگ نے مزیدکہا کہ جنگ بندی میں پہلی شرائط کے تحت توسیع کی گئی ہے۔

یمن میں امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ اپریل سے نافذالعمل جنگ بندی کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے کچھ تجارتی پروازوں کو اڑانے کی اجازت دی گئی تھی اور یمنیوں کو بیرون ملک طبی علاج معالجے کے لیے لے جایا گیا ہے۔ اس جنگ بندی نے تیل کے ٹینکروں کو حوثیوں کے زیر قبضہ بندرگاہ الحدیدہ میں لنگر انداز ہونے کی اجازت دے گئی ہے جس سے صنعاء اور دیگر جگہوں پر ایندھن کی قلّت میں کمی کا امکان ہے۔

لیکن یمن کے تیسرے سب سے بڑے شہر تعز پر حوثی ملیشیا کے محاصرے کو کم کرنے کی شق پر ابھی عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے جس پر حکومت کا نالاں ہے اور وہ شہر کی سڑکیں کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

دریں اثناء حوثیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں میں کام کرنے والے سرکاری شعبے کے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرے۔ گرنڈبرگ نے کہا کہ جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد خاص طور پر سڑکوں کے افتتاح اور تجارتی پروازوں کے کاموں کے معاملات سے متعلق اضافی اقدامات کی ضرورت ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں