رانچی: بھارتی پولیس کی فائرنگ سے دو مسلمان مظاہرین جاں بحق
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے خلاف مسلمانوں کا جگہ جگہ احتجاج
بھارت میں پولیس کی فائرنگ سے دو مسلمان مظاہرین جاں بحق ہو گئے۔ مظاہرین حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رہنما نوپورشرما کے توہین آمیز کلمات کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ نوپور شرما نے نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں چند روز قبل ٹیلی ویژن مباحثے کے دوران میں توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔
بی جے پی رہنما کے ان توہین آمیز الفاظ پر دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا اور اس ہرزہ سرائی پر او آئی سی نے بھی احتجاج کیا تھا ۔ بھارتی مسلمان اسی معاملے آج کل احتجاج کناں ہیں۔ جمعہ کو بھارتی مسلمانوں نے اس بارے میں مختلف شہروں میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا۔
بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں پولیس نے احتجاجی مظاہرین پر گولی چلائی ہے۔ریاست اترپردیش میں بھارتی پولیس نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں پانچ شہروں سے ایک سو تیس سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
واضح رہے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں ایک تازہ امریکی رپورٹ میں بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ اس ہندواکثریتی ملک میں اقلیتوں کی عبادت گاہیں تک محفوظ نہیں ۔ تاہم بھارت نے سرکاری طور پر اس رپورٹ کو مستردکر دیا تھا۔ رپورٹ میں بھارت کے سرکاری عہدے داروں کو بھی اقلیتوں کے خلاف متعصب اور سرگرم بتایا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے چند دن بعد ہی یہ واقعہ سامنے آ گیا ہے۔
مشرقی شہر رانچی میں بھی احتجاج کیا گیا جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلا دی۔ ایک پولیس افسر کے ایک مقامی افسر کے مطابق ''پولیس کو مجبور کر دیا گیا تھا کہ وہ مظاہرین پر گولی چلا دے جس کے نتیجے میں دو مسلمان ہلاک ہو گئے۔''۔تاہم اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربات والے پولیس افسر نے یہ نہیں بتایا کہ پولیس کس کے دباؤ پر گولی چلانے پر مجبور ہوئی۔