بھارت:مسلمانوں سے اہانتِ رسولﷺ کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے گریزکی درخواست

بھارتی حکام کی ہدایات پراحتجاجی لیڈروں کے خلاف بدترین معاندانہ کارروائیاں، ہندوقوم پرستوں کا تشددآمیز ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت میں ممتازاسلامی گروپوں،مساجد کے ائمہ اور مذہبی قائدین نے پیر کے روز ساتھی مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو سینیرارکان کی جانب سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز تبصروں کے خلاف احتجاج کے منصوبوں کو معطل کریں۔

انھوں نے بڑے اجتماعات اور احتجاجی جلسے، جلوسوں سے بچنے کا پیغام گذشتہ ہفتے کے دوران میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد دیا ہے۔بیشتر مقامات پر مسلمان احتجاجی مظاہرین کو سکیورٹی فورسز کے علاوہ ہندوقوم پرستوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔رانچی شہر میں گذشتہ جمعہ کو پولیس نے دو مسلمان نوعمر بچوں کو گولی مار کر موت کی نیند سلا دیا تھا جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت 30 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

متعدد ریاستوں میں فعال مسلم تنظیم جماعت اسلامی ہند کے ایک سینئر رکن ملک اسلم نے کہا کہ جب کوئی اسلام کو نیچا دکھاتا ہے تو ہر مسلمان پردوسرے مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہونا فرض ہوجاتاہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ امن قائم رکھنا بھی انتہائی اہم ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں وزیراعظم نریندر مودی کی پارٹی کے دو سینیرارکان نے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی توہین پر مبنی تبصرے کیے تھے۔اس سے مسلمانوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔پارٹی کی ترجمان نوپورشرما نے ٹیلی ویژن مباحثے میں اور سوشل میڈیا پر جماعت کی دہلی شاخ کے ترجمان نے ناپسندیدہ اور توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔

بی جے پی نے ان دونوں کی بنیادی رُکنیت معطل کردی ہےاور کہا کہ اس نے کسی بھی مذہب کی توہین کی مذمت کی ہے اور پولیس نے بھی ان دونوں کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں لیکن ان کی شرانگیزی اوراسلاموفوبیا کا شکار انتہاپسند ہندوؤں کی کارروائیوں کے خلاف مشتعل مسلمان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں جبکہ ردعمل میں ان کے مکانات تک مسمار کیے جارہے ہیں اور ان کی پکڑ دھکڑ جاری ہے۔

بھارتی پولیس نے اب تک متعدد ریاستوں میں بدامنی کے کے شُبے میں کم سے کم چار سو مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔حکام نے بہت سے شہروں میں کرفیونافذ کردیا ہےاور کچھ مقامات پر انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کردی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ 2014ء میں نریندرمودی کے برسراقتدارآنے کے بعد سے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیزظالمانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اورہندوقوم پرست مسلمانوں کو ان کے مذہب کی بنا پرمعاندانہ کارروائیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن ان کے خلاف حالیہ انتقامی کارروائیوں نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ماضی میں محض احتجاج کی پاداش میں لوگوں کے گھرمسمار نہیں کیے جاتے تھے لیکن اب کہ سکیورٹی فورسز اور ہندو قوم پرست احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش افراد کے مکانات کو منہدم کررہے ہیں اور کھلے عام کیمرے کی آنکھ کے سامنے انھیں تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی کی بی جے پی نے تصادم کی راہ اختیارکی ہے اور اس خیال کو فروغ دیا ہے کہ ہندوستان ’ہندو قوم‘ کا وطن ہے اورباقی سب لوگ’’ملک دشمن‘‘ہیں۔بہت سے مسلمان ان کی کارروائیوں کوخود کو دیوار سے لگانے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔مسلمان بھارت کی ایک ارب سے زیادہ آبادی کا 13 فی صد ہیں۔

شمالی ریاست اترپردیش میں حکام نے اتوار کے روز مظاہروں کے خلاف ردعمل میں متعدد مسلم مردوں اور خواتین کے گھروں کو مسمار کردیا۔آئینی ماہرین اورانسانی حقوق کے گروپوں نے بی جے پی کی قیادت میں ریاستی حکومت کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے۔انھوں نے آباد گھروں کے انہدام کواحتجاج کی سزا قرار دیا ہے لیکن ریاستی حکام نے اس کارروائی کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ وہ غیرقانونی طورپرسرکاری زمین پر تعمیر کیے گئے تھے۔

وزیراعظم نریندرمودی نے اب تک اپنی جماعت کے لیڈروں کی ہرزہ سرائی اور اسلام مخالف تبصروں پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے حالانکہ بیرون ملک ان کی شدید مذمت کی گئی ہے ۔بھارت کے اہم تجارتی شراکت دار قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور ایران سمیت بہت سے ممالک نے بھارت کو سفارتی سطح پراحتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں