.

یہود مخالف سرگرمیوں کے انسداد کی امریکی ایلچی کا مشرق وسطی کا دورہ طے

چھبیس جون سے گیارہ دن کے لیے اسرائیل، سعودی عرب اور امارات میں رہیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی یہود دشمنی کے انسداد کے لیے خصوصی ایلچی ڈیبورا لپسٹڈٹ اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے گیارہ روزہ دورے پر جائیں گی۔ اس امر کا اعلان جمعرات کو امریکی دفتر خارجہ نے کیا پے۔ امریکی ایلچی برائے انسداد یہود دشمنی کا یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک پہلا غیر ملکی دورہ ہو گا۔

ڈیبورا لپسٹڈٹ اس غیر معمولی اہمیت کے ماحول میں ہونے والے مشرق وسطی کے دورے کے موقع پر میزبان ممالک کے اعلی حکام سے ملاقاتیں کرنے کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی ملیں گی تاکہ مشرق وسطی میں آنے والی تبدیلیوں کے پس منظر سمیت بعض ضروری امور پر تبادلہ خیال کر سکیں اور اہداف کو سمجھ کو سمجھ سمجھا سکیں۔

وہ پرسوں چھبیس جون سے اپنا یہ پہلا اور غیر معمولی نوعیت کا دورہ شروع کر جا رہی ہیں۔ صدر بائیڈن کے دورہ مشرق وسطی کے آغاز لگ بھگ دو ہفتے قبل ان کے اس دورے کو بائیڈن دورے کے ہراول دوستے کے دورے کے طور پر ہی لیا جائے گا۔ اسرائیلی دورے کے موقع پر وہ مغربی کنارے بھی جائیں گے۔

امریکی خصوصی ایلچی تینوں ممالک میں بین المذاہب ہم آہنگی کے علاوہ ایک دوسرے کے مذہب کی تفہیم بڑھانے کی کوشش کے علاوہ یہود مخالف خیالات کے خاتمے کے لیے کام کریں گی۔

مشرق وسطی کے حوالے سے معاہدہ ابراہیم سابق صدر ڈونلڈ ممکن ہوا تھا ۔ اسے تاریخی امن معاہدے کی شروعات بنانے کی کوشش تھی۔ اسی کے بعد متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ معادات کیے اور بات سفارتی تعلقات تک پہنچی۔ اس سے پہلے صرف مصر اور اردن دو عرب ملک تھے جن کے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات تھے۔

بائیڈن انتظامیہ اس معاہدہ ابراہیم خود کو دور رکھنے کی کوشش کی ۔ لیکن اب معاہدہ ابرام کو ہی بائیڈن حکومت اپنی اس ایلچی کے ذریعے بہ انداز دگر بروئے کار لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

امریکی دفتر خارجہ نے اس سلسلے میں کہا '' لپسٹڈٹ اس گہرے اور اہم معاہدے کی بنیاد پر چیزوں کو دیکھیں گی تاکہ خطے میں مذہبی ہم آہنگی کو بڑھایا جاسکے، خطے میں باہمی تعلقات میں بہتری و بڑھوتری لائی جاسکے اور باہمی عدم اعتماد یا پائی جانے والی غلط فہمیوں کا توڑ کیا جاسکے،''

مقبول خبریں اہم خبریں