ایران اورامریکا کے درمیان قطرمیں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات بے نتیجہ ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران اورامریکا کے درمیان دوحہ میں 2015ء میں طے شدہ مگر اب متروک جوہری معاہدے کی بحالی پر ہونےوالے بالواسطہ مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے ہیں اور فریقین کے درمیان متنازع امور پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

یورپی یونین کے ایلچی اینریک مورا نے بدھ کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ بدقسمتی سے، ابھی تک یورپی یونین کی ٹیم کے طورپرمذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔البتہ انھوں نے امیدظاہرکی ہے کہ ہم خطے میں عدم پھیلاؤ اور استحکام کا ایک معاہدے طے پانے اور فریقین کوپٹڑی پر واپس لانے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

اینریک مورا ان بالواسطہ مذاکرات میں رابطہ کار کا کردار ادا کررہے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی ٹیم کو رابطہ کارکی حیثیت سے پیش رفت کی امید نہیں تھی۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے حالیہ دنوں میں واشنگٹن اورتہران کے درمیان تعطل کا شکارمذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے بعد امید کا اظہار کیا تھا۔

ایک سینیرامریکی عہدہ دار نے بتایا کہ ’’یہ ایران پر ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ کوئی معاہدہ چاہتا ہے یا نہیں‘‘۔حالیہ مہینوں میں طرفین میں ایک اہم نکتہ واشنگٹن کی جانب سے سپاہِ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے سے انکار تھا جسے ایران کے لیے امریکی صدرجو بائیڈن کے ایلچی نے مبینہ طور پر صدر کے کہنے سے پہلے پیش کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ایرانیوں نے فوری طور پر کسی قسم کے احساس کا مظاہرہ نہیں کیا، پرانے مسائل اٹھائے ہیں جو کئی مہینوں سے طے پاچکے ہیں اور یہاں تک کہ انھوں نے نئے مسائل بھی اٹھائے ہیں جن کا 2015 کے جوہری معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدہ دار نے العربیہ کو بتایا کہ ’’بالواسطہ بات چیت جاری ہے لیکن فی الحال ہمارے پاس اضافی اپ ڈیٹس نہیں ہیں‘‘۔

عہدہ دارنے مزید کہا:’’جیسا کہ ہم اور ہمارے یورپی اتحادیوں نے واضح کیا ہے، ہم فوری طورپراس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیارہیں۔ہم نے ویانا میں جے سی پی او اے (جوہری معاہدے) کے مکمل باہمی نفاذ پر بات چیت کی تھی لیکن اس پر پیش رفت کے لیے ایران کواپنے اضافی مطالبات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

قبل ازیں ایران کے نیم سرکاری خبررساں ادارے تسنیم نے باخبرذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات بغیرکسی نتیجہ کے ختم ہوگئے ہیں۔

تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا تھا کہ قطر میں امریکا کے ساتھ 2015 میں طے شدہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے دوروزہ بالواسطہ مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا تھا کہ مقامی وقت کے مطابق بدھ کی سہ پہر کوایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کارعلی باقری کانی اور یورپی یونین کے ایلچی اینریک مورا کے درمیان ایک اور ملاقات طے ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ مئی 2018ء میں ایران سے طے شدہ جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہو گئے تھے اور انھوں نے ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عایدکردی تھیں۔

اس کے جواب میں ایران نے بھی جوہری معاہدے کی بعض شرائط کی خلاف ورزی شروع کردی تھی۔اب گذشتہ سال اپریل سے دونوں ملکوں کے درمیان اس معاہدے کی بحالی کے لیے بالواسطہ بات چیت ہورہی ہیں لیکن طرفین کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں