ایرانی حمایت یافتہ حوثی دہشت گردی کی جانب سے شروع کردہ دہشت گرد کارروائیوں پر قابو پانے میں سرگرم عرب عسکری اتحاد نے کہا ہے کہ وہ یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان جنگ بندی کے قیام کے لیے تمام اقدامات کرے گا اور جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لائے گا۔ عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے آغاز کے ساتھ ہی اتحاد کے فضائی حملے بند ہو گئے۔
عرب عسکری اتحاد نے واضح کیا ہے کہ حوثیوں کے یہ الزامات کہ اتحاد نے الضالع گورنری میں فضائی حملے کیے ہیں، غلط ہیں۔
یورپی یونین نے حوثی گروپ کی جانب سے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ کی سڑکیں بالخصوص تعز کی شاہراوٗں کو دوبارہ کھولنے کی تجویز کو مسترد کیے جانے پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ عرب اتحاد کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا نے گذشتہ آٹھ سال سے تعز شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
یورپی یونین نے منگل کے روز سرکاری ترجمان کی جانب سے ایک بیان میں کہا کہ اسے حوثیوں کی جانب سے سڑکوں کو دوبارہ کھولنے کی اقوام متحدہ کے ایلچی کی تجویز کو مسترد کرنے پر شدید افسوس ہے، جو جنگ بندی کے ایک ضروری انسانی جزو کے ساتھ ساتھ حدیدہ بندرگاہ سے ایندھن کی ترسیل اور صنعا کے لیے کمرشل پروازوں کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔
یورپی یونین نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی تجویز پر نظر ثانی کریں اور اسے قبول کریں۔ تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ 2 اگست کے بعد چھ ماہ کے لیے جنگ بندی کی ایک اور توسیع کو قبول کریں۔
یورپی یونین کے مندوب کا کہنا ہے کہ یمنی تنازع کے طویل مصائب کے بعد یہی چاہتے ہیں اور اس کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی زیر قیادت امن کوششوں کے لیے اپنی مکمل حمایت پر زور دیا، جس کا مقصد یمن میں تنازعہ کو ختم کرنا ہے۔