سلمان رشدی وینٹی لیٹر سے فارغ، حالت بہتر ہورہی ہے:ایجنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کی ریاست نیویارک میں قاتلانہ حملے میں شدید زخمی معروف متنازع مصنف سلمان رشدی کووینٹی لیٹر سے اتاردیاگیا ہے اور ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

سلمان رشدی کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے رائٹرزکے نام ایک ای میل میں لکھا کہ ’’انھیں وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے، وہ صحت یاب ہورہے ہیں۔یہ عمل طویل ہوگا؛ ان کی چوٹیں شدید ہیں، لیکن حالت صحیح سمت میں بہتر ہورہی ہے‘‘۔

لبنانی نژاد مشتبہ ملزم ہادی مطر نے بھارت نژاد ناول نگارسلمان رشدی پرجمعہ کو نیویارک ریاست میں ایک لیکچر کے دوران میں گردن پر چاقو سے وار کیا تھا۔پھررشدی کوہیلی کاپٹرکے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

75سالہ رشدی کو حملے کے وقت نیویارک کےمغرب میں واقع شوٹاکواانسٹی ٹیوشن میں فنکارانہ آزادی کے موضوع پر سیکڑوں سامعین سے گفتگو کرنے کے لیے متعارف کرایا جا رہا تھا۔تب ایک شخص اچانک اسٹیج پر پہنچا اوراس نے رشدی پر چاقو سے پے درپے وار شروع کردیے جس سے وہ زخمی ہوگیا۔

مشتبہ ملزم کے عدالت میں مقررکردہ وکیل نتھانیل بارون نے رائٹرز کو بتایا کہ فیئرویو، نیوجرسی سے تعلق رکھنے والے ہادی مطرنے ہفتے کے روز عدالت میں پیشی کے موقع پر قتل کی کوشش اورحملے کے الزامات میں مجرم نہ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

وائلی نے ناول نگار کی حالت کے بارے میں پیشگی تازہ معلومات میں کہا کہ کئی گھنٹے کی سرجری کے بعدرشدی کو وینٹی لیٹرپررکھا گیا تھا اور وہ جمعہ کی شام تک بات کرنے سے قاصر تھے۔ان کی ایک آنکھ ضائع ہونے کا امکان ہے اوران کے بازو میں زخم سے اعصابی نقصان ہوا اور جگر پر زخم ہیں۔

لیکن وائلی نے اتوار کوای میل میں رشدی کی صحت کے بارے میں مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔

دنیا بھر کے مصنفین اور سیاست دانوں نے اس چاقو زنی کی مذمت کرتے ہوئے اسے اظہار رائے کی آزادی پرحملہ قراردیا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی رشدی پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی اور ان کے کام کے ذریعہ مجسم سچائی،عزم وہمت کے ’’آفاقی نظریات‘‘کی تعریف کی۔بائیڈن نے کہا کہ یہ کسی بھی آزاد اور کھلے معاشرے کے بلڈنگ بلاکس ہیں۔

ہفتہ کے روز نیویارک کے مقامی یا وفاقی حکام نے واقعہ کی تحقیقات کے بارے میں کوئی اضافی تفصیل پیش نہیں کی تھی۔ پولیس نے جمعہ کو بتایا کہ حملے کا مقصد واضح نہیں ہوا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق واقعہ کی تحقیقات پرمامور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک عہدہ دار کا کہنا ہے کہ احمد مطراور پاسداران انقلاب کے درمیان کوئی ’’حتمی روابط‘‘ نہیں ہیں لیکن مطرسے تعلق رکھنے والی سیل فون میسجنگ ایپ میں پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی اور’’ایرانی حکومت سے ہمدردی رکھنے والے عراقی انتہا پسند‘‘کی تصاویر شامل ہیں۔

یادرہے کہ سلمان رشدی کو طویل عرصے سے 1988 میں شائع شدہ اپنے چوتھے ناول ’’دی سیٹینک ورسز‘‘(شیطانی آیات) کی وجہ سے جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا تھا۔ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ روح اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے خلاف اہانت رسول پرمبنی یہ کتاب لکھنے پرقتل کا فتویٰ جاری کیا تھا اور ایران نے اس کے سرکی قیمت مقرر کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں