ایران جوہری معاہدہ

ایران پرجوہری معاہدہ کےتحت 3.67 فی صد سے زیادہ یورینیم افزودگی کی پابندی ہوگی:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کے ایک سینیر عہدہ دار نے منگل کو بتایا کہ ایران کو ایک نئے جوہری معاہدے کے تحت 2031 تک 3.67 فی صد سے زیادہ یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی اور اس پرافزودہ یورینیم کو 300 کلوگرام سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی بھی پابندی عاید کی جائے گی۔

اس عہدہ دار نے العربیہ کودیے گئے ایک بیان میں کہا کہ اس پابندی سے ایران جوہری بم کے لیے درکار مواد حاصل نہیں کرسکے گا۔نیزایران کو 20 اور 60 فی صد افزودہ یورینیم سے چھٹکارا حاصل کرنے یا اسے ناقابل استعمال بنانے کی ضرورت ہوگی۔آج وہ اس سطح ہی کی افزودہ یورینیم کو ذخیرہ کر رہا ہے۔

ایران کے ساتھ ویانا اور دوسرے مقامات پر امریکا کے ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری بالواسطہ مذاکرات کے بعد یورپی یونین نے رواں ماہ کے آغازمجوزہ معاہدے کا حتمی متن تجویز کیا تھا۔اس امریکا اور ایران سے چند ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا گیا تھا۔ایران اس متن پر یورپی یونین کو اپنا جواب پیش کرچکا ہے جبکہ امریکا نے ابھی تک اس کا جواب نہیں دیا اور وہ ابھی مزید غور کررہا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے عہدہ دار نے منگل کے روز کہا کہ خلا اب بھی باقی ہے لیکن اگر ہم معاہدے پرواپس آنے کے سمجھوتے پر متفق ہو جاتے ہیں تو ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے بہت سے اہم اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس ضمن میں اس عہدہ دار نے بتایا کہ ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے لیے فعال ہزاروں جدید سنٹری فیوجزکو روک دیا جائے گایاہٹا دیا جائے گا۔ان میں فردو میں زیرزمین واقع مضبوط جوہری تنصیب میں تمام سنٹری فیوجز بھی شامل ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کی سخت حدود کا مطلب یہ ہوگا کہ اگروہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے معاہدے سے دستبردار بھی ہوجاتا ہے تو اس کو ایسا کرنے میں کم سےکم چھے ماہ لگیں گے۔

ایران سے مجوزہ معاہدے کو امریکا میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن دونوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اس عہدہ دار نے کہا کہ ’’پلوٹونیم پر مبنی جوہری ہتھیار‘‘ کی تیاری کے لیے کسی بھی ایرانی راستے کو بھی روک دیا جائے گا۔

بائیڈن انتظامیہ نے بار بار اپنےاس یقین کا ذکر کیا ہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی ہی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا بہترین طریقہ ہے۔امریکی حکام گذشتہ کئی ماہ سے یہ کَہ رہے ہیں کہ یہ معاہدہ ’’ہفتوں کی دوری‘‘پر ہے۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ نیا معاہدہ 2015ء کے اصل معاہدے سے مختلف ہوگا۔امریکی عہدہ دار نے تجویز پیش کی کہ نئے معاہدے کے تحت ایران جوہری قدغنوں کا پابند ہوگا اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کو’’اب تک کے معائنے کے سب سے جامع نظام‘‘ پرعمل درآمد کے قابل ہونے کی اجازت دے گا۔

ایران نے رعایتیں دیں،امریکا نے نہیں

امریکی عہدہ دار نے ایران کے پیش کردہ اس بیانیے کو مسترد کردیا کہ واشنگٹن نے ایک نئے معاہدے تک پہنچنے کے لیے متعدد رعایتیں دی ہیں۔

گذشتہ ہفتے لندن میں قائم ایران انٹرنیشنل نے ان مبیّنہ رعایتوں کی فہرست شائع کی تھی۔ان پر بائیڈن انتظامیہ نے ایران کو معاہدے کی مکمل تعمیل میں واپس لانے کے لیے اتفاق کیا تھا۔ اس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ان میں 17 بینکوں پرعاید پابندیوں کا خاتمہ، جنوبی کوریا میں منجمد7 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں کا فوری اجراء اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ متعدد ایگزیکٹو آرڈرز کی تنسیخ شامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ اطلاعات بالکل غلط ہیں کہ ہم نے جوہری معاہدے کی بحالی کے حصے کے طور پر ایران کی نئی رعایتوں کو قبول کر لیا ہے یا ان پر غور کر رہے ہیں۔اب تک ہم نے نہیں بلکہ ایران نے ہی اہم معاملات پررعایتیں دی ہیں۔سب سے زیادہ قابل ذکربات یہ ہے کہ صدر اس بات پر قائم اور مستقل مزاج رہے ہیں کہ وہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی دہشت گردی کی نامزدگی کو ختم نہیں کریں گے۔ایران کے اس سلسلے میں مطالبہ کومجوزہ ترمیمی متن سے حذف کردیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں