سعودی ویژن 2030

سعودی عرب:6 سال میں رئیل اسٹیٹ اورترقیاتی منصوبے11 کھرب ڈالرسے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں 2016 میں ویژن 2030 کے تحت وسیع تر اصلاحات کے آغاز کے بعد رئیل اسٹیٹ اور انفراسٹرکچر منصوبوں کی مجموعی مالیت 11 کھرب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔

یہ اعدادوشمار پراپرٹی کنسلٹنسی نائٹ فرینک نے منگل کو ایک بیان میں جاری کیے ہیں۔اس فرم کے مطابق مملکت بھر میں 5 لاکھ 55 ہزار نئے رہائشی یونٹس، 2 لاکھ 75 ہزار سے زیادہ ہوٹلوں کے کمرے ، 43 لاکھ مربع میٹر خریداری مراکز اور 61 لاکھ مربع میٹر دفاتر کی جگہیں متوقع ہیں۔

حالیہ برسوں میں شروع کردہ تعمیراتی منصوبوں میں 15 'گیگا پروجیکٹ' شامل ہیں۔ان میں سب سے قابل ذکر منصوبہ بند نیوم میگا سٹی، بحیرہ احمر کا منصوبہ اور دارالحکومت الریاض کے مغرب میں واقع تاریخی شہرالدرعیہ کی بحالی ہے۔

نائٹ فرینک کے شراکت دار فیصل درانی نے کہا کہ ہمہ نوع تعمیرات میں تیزی مملکت کو’’دنیا کے اب تک کے سب سے بڑے تعمیراتی مقام‘‘میں تبدیل کردے گی۔

فروری میں شائع ہونے والے نائٹ فرینک سروے کے مطابق نیوم ایک اندازے کے مطابق ملک کے اسٹاک میں 3لاکھ نئے گھروں کا اضافہ کرنے کو تیار ہے اور نئے میگا پروجیکٹوں میں سے ایک میں سرمایہ کاری کے خواہاں سعودیوں میں سب سے مقبول انتخاب ہے۔

نائٹ فرینک کے رئیل اسٹیٹ حکمت عملی اور مشاورت برائے سعودی عرب کے سربراہ ہارمین ڈی ژونگ کے مطابق اب تک نیوم کے لیے 7.5 ارب ڈالر مالیت کے ذیلی منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔ان میں 29 فی صد تعمیراتی پیش رفت بھی ہوچکی ہے۔

صرف الریاض میں گذشتہ چھے سال کے دوران میں 104 ارب ڈالر مالیت کے رئیل اسٹیٹ منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2021 میں فیوچرانویسٹمنٹ انیشی ایٹو سمٹ کے چوتھے ایڈیشن میں کہا تھا کہ دارالحکومت میں آیندہ دہائی میں آبادی میں مسلسل اضافہ متوقع ہے۔یہ 2030 تک دُگنا ہوجائے گی اور75 لاکھ نفوس سے بڑھ کر ڈیڑھ سے دوکروڑ کے درمیان ہو جائے گی۔

الدرعیہ کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے بعد 20,000 نئے گھر شامل ہوسکتے ہیں۔اس کے علاوہ الریاض میں 146 ارب ڈالر کی مالیت سے نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تعمیر بھی متوقع ہے۔

نائٹ فرینک کا اندازہ ہے کہ اب تک 20 ارب ڈالرمالیت کے الدرعیہ کے منصوبے پر 5 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں اور اس کی 46 فی صد تعمیرات مکمل ہو چکی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق الریاض بھر میں گریڈ اے کے دفاتر کے باقبضہ استعمال کی سطح 97 فی صد کے لگ بھگ ہے جس سے 28 لاکھ مربع میٹر دفتری جگہ کی منصوبہ بند ترقی کی حقیقی ضرورت کا اشارہ ملتا ہے۔

الریاض میں مکانوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اورگذشتہ سال کے اس عرصے کے مقابلے میں آج قیمتیں 26 فی صد زیادہ ہیں۔

دیگر بڑے منصوبوں میں 500 ملین ڈالر کا الریاض اسپورٹس بلیوارڈ اور 23 ارب ڈالر مالیت کا ’’سبزالریاض‘‘ اقدام شامل ہے۔اس کا مقصد شہر بھر میں 75 لاکھ درخت لگانا ہے۔

توقع ہے کہ شہر میں 10 مربع کلومیٹر طویل ایک نیا النامہ اسمارٹ سٹی بھی ہوگا جو دارالحکومت کا پہلا زیروکاربن شہر ہوگا۔اس میں تکمیل کے بعدقریباً 44,000 افراد رہائش پذیر ہوں گے۔

سعودی عرب کے مشرق میں دمام امانت الشرقیہ پروجیکٹ میں شہر کے ساڑھے چھے لاکھ مربع میٹر رقبےکودوبارہ تیارکیے جانے کی توقع ہے۔اس کے علاوہ 13 ارب 80 کروڑ ڈالر سے اسپتالوں کی تعمیروترقی اور توسیع کے منصوبے مکمل کیے جارہے ہیں۔ان کی تکمیل سے اسپتالوں میں 19 ہزار نئے بستروں کا اضافہ ہوگا اور 82 ارب ڈالر مالیت کے 80 نئے تعلیمی اداروں کا بھی منصوبہ زیرتکمیل ہے۔

فیصل درانی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں ایک جرات مندانہ نیا وژن سامنے آرہا ہے۔ دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت میں ہونے والی غیرمعمولی تبدیلی پورے شہری منظر نامے میں واضح طور پر نظر آرہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں